از اسامہ زاہد
ایران کے جوہری عزائم پر امریکی وزیر دفاع کا دوٹوک مؤقف
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بات سنگاپور میں ایک بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں ضرورت انہوں نے عالمی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور امریکا کی دفاعی حکمت عملی پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
پیٹ ہیگستھ کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکا طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف ایسی صورتحال خطے کے ساتھ ساتھ عالمی استحکام اور بین الاقوامی سلامتی ضرورت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
صورتحال اور امریکی دفاعی پالیسی ضرورت پر گفتگو امن و استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
امریکا ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے
سنگاپور میں خطاب کے دوران امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ یا عسکری کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق امریکا کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ، جدید دفاعی نظام اور فوجی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دفاعی تیاری صرف جنگ کے لیے نہیں بلکہ امن کے تحفظ کے لیے بھی ضرورت ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی پیش رفت پر امریکی ردعمل
امریکی وزیر دفاع نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہوتا ہے جو خطے میں استحکام پیدا کرے اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی خدشات کو کم کرے تو وہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران بین الاقوامی ذمہ داریوں اور شرائط کی مکمل پاسداری کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، اور جوہری پروگرام ان تعلقات کا سب سے اہم اور حساس پہلو رہا ہے۔
عالمی سلامتی میں امریکا کے کردار پر زور
پیٹ ہیگستھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا عالمی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن دنیا کے مختلف خطوں میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا مستقبل میں امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مکمل بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ان کے مطابق اتحادی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے تاکہ اجتماعی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ مؤقف امریکا کی حالیہ دفاعی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے جس میں اتحادی ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں اور علاقائی سلامتی میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر امریکی تشویش
اپنے خطاب کے دوران امریکی وزیر دفاع نے چین کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کوئی بھی ملک، بشمول چین، خطے میں مکمل بالادستی قائم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بحرالکاہل کے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا عالمی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ اگر کسی ایک ملک کو مکمل غلبہ حاصل ہو جائے تو اس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی تجارت، سفارتی تعلقات اور سیکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ چین کو خطے میں امریکا کے کردار اور موجودگی کا احترام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک خطے کے وژن پر کام جاری رکھے گا۔
انڈو پیسیفک خطے کی بڑھتی اہمیت اور عالمی طاقتوں کا مقابلہ
ماہرین کے مطابق انڈو پیسیفک خطہ اس وقت عالمی سیاست اور معیشت کا اہم ترین مرکز بن چکا ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا اسٹریٹجک مقابلہ اس خطے کی اہمیت کو مزید بڑھا رہا ہے۔
امریکا جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی اور سفارتی تعلقات مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ چین بھی خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی پس منظر میں امریکی وزیر دفاع کے حالیہ بیانات کو واشنگٹن کی وسیع تر دفاعی اور خارجہ پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مستقبل کی صورتحال پر عالمی نظریں
پیٹ ہیگستھ کے بیانات نے ایک بار پھر ایران کے ضرورت جوہری پروگرام، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور چین کے بڑھتے کردار سے متعلق عالمی بحث کو تیز کر دیا ہے۔
اگرچہ امریکا سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے، لیکن واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی مفادات اور عالمی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوجی آپشن کو بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرے گا۔
عالمی مبصرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں ایران ضرورت کے جوہری پروگرام، امریکا کی دفاعی حکمت عملی اور انڈو پیسیفک خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق پیش رفت بین الاقوامی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل رہے گی۔