رفعت کوثر
ایس این این نیوز
1969 کی تحریر نے بین المذاہب بحث کو دوبارہ ہوا دی
پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ پہلے ایک ہندو اسکالر کی لکھی گئی کتاب، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندو صحیفوں میں پیشگوئی کردہ “کلکی اوتار” دراصل اسلام کے پیغمبر حضرت محمدﷺ ہیں، آج بھی آن لائن وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہے اور بحث کو جنم دے رہی ہے۔
یہ تصنیف، جس کا عنوان کلکی اوتار اور محمد صاحب ہے، سنسکرت اسکالر وید پرکاش اپادھیائے نے لکھی، جو پہلی بار ہندی زبان میں 1969-1970 میں الہ آباد کی سرسوتی ویدانت پبلیکیشن سوسائٹی نے شائع کی۔
ہندو روایت کے مطابق کلکی، دیوتا وشنو کا دسواں اور آخری اوتار مانا جاتا ہے، جس کی آمد موجودہ دور کے اختتام پر متوقع ہے۔ اپادھیائے کی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صحیفوں میں بیان کردہ اس شخصیت کی خصوصیات مستقبل کے کسی اوتار کے بجائے حضرت محمدﷺ سے مطابقت رکھتی ہیں۔
مصنف کی مرکزی دلیل
اسلامی اور بین المذاہب ویب سائٹس پر گردش کرنے والی تفصیلات کے مطابق، اپادھیائے نے وید اور پران صحیفوں سے کئی موازنے پیش کیے ہیں۔ ان میں یہ دعویٰ شامل ہے کہ پیشگوئی کردہ شخصیت انسانیت کی رہنمائی کرنے والا آخری پیغمبر ہوگا، ایک “جزیرے” میں پیدا ہوگا جسے عرب جزیرہ نما سے تعبیر کیا گیا ہے، اور غار میں وحی حاصل کرے گا جسے غارِ حرا میں حضرت محمدﷺ کی پہلی وحی سے تشبیہ دی گئی ہے۔
کتاب میں پیشگوئی کردہ شخصیت کے والدین کے ناموں اور حضرت محمدﷺ کے والدین، عبداللہ اور آمنہ، کے ناموں کے درمیان لسانی مماثلت بھی پیش کی گئی ہے، اور ایک بیان کردہ “آسمانی سفر” کو اسراء و معراج سے جوڑا گیا ہے۔
توثیق کے دعوے غیر مصدقہ
کچھ روایات کے مطابق اپادھیائے کی تحقیق کی اشاعت سے پہلے دیگر ہندو علماء نے جانچ پڑتال کی، اور انہیں سنسکرت اسکالرشپ ایوارڈ سمیت تعلیمی اعزازات بھی حاصل تھے۔ یہ دعوے بنیادی طور پر بلاگز اور بین المذاہب موضوعات پر مرکوز ویب سائٹس پر ہی ملتے ہیں، کسی آزاد تعلیمی یا مرکزی دھارے کے میڈیا ذریعے میں نہیں اور انہیں آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کیا جا سکا۔
مختلف طبقوں میں ملا جلا ردعمل
اس کتاب کو ہندومت اور اسلام کے درمیان بین المذاہب مماثلتوں میں دلچسپی رکھنے والے قارئین میں پذیرائی ملی ہے، اور اسے کئی بار ترجمہ اور دوبارہ شائع کیا گیا، بشمول اردو اور بنگالی میں۔ اس کے ساتھ ہی اسے ہندو علماء کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا رہا جو اپادھیائے کی تشریح کو مسترد کرتے ہیں، تاہم دستیاب ذرائع میں کسی مخصوص مذہبی ادارے کی جانب سے باقاعدہ جوابی دلائل کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔
بعض روایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تصنیف اسی موضوع پر ایک احمدیہ مسلم اسکالر کی پہلے سے موجود تحریروں سے مماثلت رکھتی ہے، ایک ایسا نکتہ جسے اپادھیائے کے حامی مسترد کرتے ہیں۔
یہ اب دوبارہ کیوں زیرِ بحث آئی؟
دہائیوں پرانی ہونے کے باوجود، یہ کتاب وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا اور مذہبی مباحثوں کے فورمز پر شیئر ہوتی رہتی ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں۔ اس کا بار بار گردش میں آنا 1969 کی اصل اشاعت سے جڑے کسی نئے واقعے کی بجائے، ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان صحیفائی تشریح پر جاری اور حل طلب بحث کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندو مت میں کلکی اوتار کا تصور کیا ہے