از اسامہ زاہد
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس مہنگائی، انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ پر بڑے فیصلے
کراچی، 6 مئی 2026 صوبہ سندھ کی کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں، فلاحی پروگراموں اور انتظامی اصلاحات پر مشتمل 30 ارب روپے کے جامع پیکج کی منظوری دے دی ہے۔
اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کی، جنہوں نے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے شہریوں کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
کابینہ اجلاس میں لیے گئے فیصلے 30 ارب روپے متعدد اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں کراچی میں سڑکوں کی مرمت سے لے کر ماہی گیر برادری کی مالی امداد اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے ایندھن سبسڈی تک۔
سادہ خبری انداز: ماہی گیروں کی مالی مدد کے لیے 515 ملین روپے مختص کر دیے گئے۔

سندھ حکومت کا ساحلی آبادیوں کو براہ راست مالی تعاون کا اعلان
سندھ کابینہ نے صوبے کی ماہی گیر برادری کے لیے 515 ملین روپے کے خصوصی ریلیف پیکج کی منظوری دی ہے۔ یہ برادری طویل عرصے سے معاشی مشکلات، موسمیاتی تبدیلیوں اور مہنگائی کے مشترکہ بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔
اس پیکج کا مقصد ماہی گیروں کو فوری مالی سہارا فراہم کرنا اور ان کی روزمرہ زندگی کو مستحکم بنانا ہے۔ سندھ میں لاکھوں افراد کا روزگار براہ راست ماہی گیری کے شعبے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
موٹر سائیکل فیول سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع
کم آمدنی والے طبقات کو پیٹرول مہنگائی سے ریلیف جاری رہے گا
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے فیول سبسڈی میں ایک ماہ کی مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ سبسڈی خاص طور پر ان محنت کش افراد کے لیے ہے جو روزانہ موٹر سائیکل پر سفر کر کے اپنا روزگار چلاتے ہیں۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے نچلے اور متوسط طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ سندھ حکومت عام آدمی کو ریلیف دینے کی پالیسی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے کی گرانٹ

شہر کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بڑی سرمایہ کاری کا فیصلہ
کابینہ نے کراچی میں سڑکوں کی مرمت اور بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے، لیکن یہاں کی سڑکیں برسوں سے خستہ حالی کا شکار ہیں۔
یہ فنڈنگ شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر نو اور مرمت کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئے گی بلکہ شہریوں کی روزمرہ آمد و رفت بھی آسان ہوگی۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا:
“حکومت بیک وقت انفراسٹرکچر کی بہتری اور سماجی تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔”
30 ارب روپے کے پیکج کے اہم نکات
کابینہ کے منظور کردہ مجموعی پیکج میں درج ذیل شعبے شامل ہیں:
- ماہی گیر برادری کے لیے 515 ملین روپے کا ریلیف
- موٹر سائیکل فیول سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع
- کراچی سڑکیں 6.5 ارب روپے کی بحالی گرانٹ
- ترقیاتی منصوبے صوبے بھر میں انفراسٹرکچر کی بہتری
- انتظامی اصلاحات حکومتی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات
- فلاحی پروگرام مہنگائی سے متاثرہ طبقات کو براہ راست ریلیف
- 30 ارب روپے
عوامی اثرات اور اہمیت
سندھ کے کروڑوں شہریوں پر کیا اثر پڑے گا؟
سندھ پاکستان 30 ارب روپے کی سب سے زیادہ آبادی والے صوبوں میں سے ایک ہے جہاں پانچ کروڑ سے زائد افراد رہتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی یہاں کے عام شہریوں کے بڑے مسائل ہیں۔
کابینہ کے آج کے فیصلے براہ راست ان طبقات کو ریلیف دینے کی کوشش ہیں جو معاشی دباؤ میں سب سے زیادہ پسے ہوئے ہیں ماہی گیر، موٹر سائیکل سوار محنت کش، اور کراچی کے روزانہ سفر کرنے والے شہری۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے واضح کیا:
سادہ خبری انداز: سندھ حکومت نے مہنگائی سے پریشان عوام کو فوری مدد پہنچانے کا عہد کیا ہے۔
پس منظر سندھ حکومت کی ترجیحات
گزشتہ چند مہینوں میں سندھ حکومت نے متعدد فلاحی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح بلند رہی ہے اور عام آدمی کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایسے میں صوبائی حکومتوں پر عوامی دباؤ بڑھا ہے کہ وہ فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔
سندھ کابینہ کا یہ 30 ارب روپے کا پیکج اسی تناظر میں سامنے آیا ہے ایک ایسا اقدام جو بیک وقت فوری ریلیف اور طویل مدتی ترقی دونوں کو یکجا کرتا ہے۔
جانیں کہ سندھ حکومت کا 30 ارب روپے کا پیکج صوبے کے عام شہریوں کی زندگی کیسے بدلے گا۔