حماد کاہلوں
ایس این این نیوز
ایران جانے والے پاکستانیوں کو مہنگا ایرانی ریال فروخت کیے جانے کا انکشاف
پاکستان میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت کے حوالے سے تشویشناک دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں شہریوں کو مبینہ طور پر اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ نرخ پر ایرانی کرنسی فروخت کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق بعض کرنسی ڈیلرز اور غیر رسمی ایکسچینج نیٹ ورکس عام لوگوں کو گمراہ کرکے بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایک نوجوان نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ اپنے بھائی سے ڈھائی لاکھ روپے ادھار لے کر آیا تاکہ 30 کروڑ ایرانی ریال خرید سکے۔
دعویٰ کیا گیا کہ عالمی منڈی میں اتنی رقم کے ایرانی ریال کی مالیت تقریباً 55 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے، مگر مقامی سطح پر اس سے کئی گنا زیادہ رقم طلب کی جا رہی ہے۔
ایرانی ریال کی قیمت میں مسلسل کمی، پاکستان میں الٹا رجحان

معاشی ماہرین کے مطابق ایرانی ریال گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر دباؤ کا شکار رہا ہے۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں، مہنگائی اور مالیاتی بحران کے باعث اس کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے۔
تاہم پاکستان میں بعض غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ کرنسی ڈیلرز ایرانی ریال کی قیمت مسلسل بڑھا چڑھا کر بتا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے خاص طور پر ان افراد کو متاثر کیا ہے جو زیارات، تجارت یا سیاحت کے لیے ایران جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایک کروڑ ایرانی ریال کے نوٹ پر مبینہ منافع خوری
ذرائع کے مطابق ایک کروڑ ایرانی ریال کے نوٹ پاکستانی شہریوں کو 8 ہزار، 10 ہزار اور بعض اوقات 12 ہزار روپے تک میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔
جبکہ دعویٰ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ اصل مارکیٹ ویلیو اس سے کہیں کم ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں کسی بینک یا مستند مالیاتی ادارے سے رابطہ کیا جائے تو یہی رقم بہت کم قیمت پر حاصل کی جا سکتی ہے۔
شہریوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
پاکستان میں ایران جانے والے مسافروں کو اکثر درج ذیل مسائل پیش آتے ہیں:
- ایرانی ریال کی درست قیمت معلوم نہ ہونا
- مستند ایکسچینج ذرائع کی کمی
- بلیک مارکیٹ میں خرید و فروخت
- فوری ضرورت کے باعث مہنگی کرنسی خریدنا
- سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا پھیلاؤ
- ایرانی ریال
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کرنسی کی خریداری سے پہلے اس کی سرکاری یا عالمی قیمت ضرور چیک کرنی چاہیے۔ اسٹیٹ بینک، بین الاقوامی ایرانی ریال ایکسچینج ریٹس ویب سائٹس، اور رجسٹرڈ کرنسی ایکسچینج کمپنیوں سے معلومات لینا بہتر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی کرنسی عالمی مارکیٹ میں کمزور ہو رہی ہو مگر مقامی مارکیٹ میں غیر معمولی مہنگی بیچی جا رہی ہو تو اس پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
حکومت اور ریگولیٹرز کے لیے بڑا سوال
یہ معاملہ متعلقہ اداروں کے لیے بھی توجہ طلب ہے۔ اگر شہریوں سے غیر منصفانہ نرخ وصول کیے جا رہے ہیں تو اس کی نگرانی ضروری ہے۔ غیر قانونی کرنسی کاروبار نہ صرف عوام کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ملکی مالیاتی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
حکام کے لیے ضروری ہے کہ:
- غیر رجسٹرڈ کرنسی ڈیلرز کے خلاف کارروائی کریں
- عوام کو مستند ریٹس فراہم کریں
- ایران جانے والے مسافروں کے لیے رہنمائی جاری کریں
- بلیک مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کریں
- ایرانی ریال
ایران جانے والوں کے لیے احتیاطی مشورے

اگر آپ ایران سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو کرنسی خریدنے سے پہلے یہ اقدامات کریں:
سرکاری ریٹ معلوم کریں
کرنسی خریدنے سے پہلے موجودہ ایکسچینج ریٹ چیک کریں۔
مستند ڈیلر سے خریدیں
صرف لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنی سے لین دین کریں۔
زیادہ رقم ایک ساتھ نہ خریدیں
ضرورت کے مطابق کرنسی خریدیں تاکہ نقصان کم ہو۔
ایران پہنچ کر مقامی معلومات لیں
بعض اوقات منزل پر پہنچ کر بہتر ریٹ دستیاب ہوتا ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سادہ لوح شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو پہلی بار ایران جا رہے ہوں یا فوری سفر کی ضرورت رکھتے ہوں۔
نتیجہ
پاکستان میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت سے متعلق سامنے آنے والے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کرنسی مارکیٹ میں شفافیت کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی شہری اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ رقم ادا کر رہے ہیں تو یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔
عوام کو چاہیے کہ کسی بھی غیر ملکی کرنسی کی خریداری سے پہلے مکمل تحقیق کریں، جبکہ حکام کو چاہیے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو عوامی اعتماد اور مالی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ایرانی ریال ریٹ آج، پاکستان کرنسی ایکسچینج خبریں، ایران سفر کرنسی گائیڈ، بلیک مارکیٹ کرنسی ریٹس,