google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

پیٹرول لیوی میں 24 روپے اضافہ، عوام کو ریلیف نہ مل سکا

ایس این این نیوز اردو

June 8, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

اسلام آباد، 7 جون 2026 حکومت پاکستان نے نئے فورٹ نائٹلی پرائسنگ سائیکل میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرحوں میں 24 روپے ردوبدل کیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق پیٹرول پر 24 روپے لیوی بڑھائی گئی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر کم کی گئی ہے۔

پیٹرول پر لیوی میں بھاری اضافہ

حکومت نے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 91 روپے 34 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 116 روپے 8 پیسے فی لیٹر کر دی ہے۔

اس طرح پیٹرول پر لیوی میں 24 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کرنے کی بجائے لیوی میں اضافے کے ذریعے سرکاری خزانے میں محفوظ کر لیا گیا۔

ہائی سپیڈ ڈیزل پر لیوی میں کمی

دوسری جانب ہائی سپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 68 روپے 93 پیسے سے کم کر کے 44 روپے 59 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

یہ 24 روپے 34 پیسے فی لیٹر کی کمی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق لیوی کی شرح میں یہ کمی اس لیے کی گئی تاکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فروخت قیمت کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جا سکے۔

لیوی کیا ہوتی ہے؟

پیٹرولیم لیوی وہ سرکاری ٹیکس ہے جو حکومت پیٹرول 24 روپے اور ڈیزل کی فروخت قیمت میں شامل کر کے وصول کرتی ہے۔ یہ رقم براہ راست وفاقی خزانے میں جمع ہوتی ہے اور صوبوں کے ساتھ تقسیم نہیں کی جاتی۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرنے پر حکومت عموماً لیوی بڑھا کر اپنی آمدن کو مستحکم رکھتی ہے، جس سے صارفین کو قیمتوں میں کمی کا پورا فائدہ نہیں مل پاتا۔

عوامی ردعمل

اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جب عالمی سطح پر تیل سستا ہو تو اس کا براہ راست فائدہ عام صارف کو ملنا چاہیے، نہ کہ لیوی بڑھا کر حکومتی آمدن میں اضافہ کیا جائے۔

فی الحال حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان پیٹرولیم لیوی معاہدہ