google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

راولاکوٹ لانگ مارچ: فائرنگ سے 20 سے زائد ہلاکتیں

ایس این این نیوز اردو

July 29, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

راولاکوٹ لانگ مارچ ہلاکتیں: فورسز کی فائرنگ سے کم از کم 14 سے 21 افراد ہلاک

پاکستان زیرِ انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں پیر کی شام سیکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے کم از کم 14 سے 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے زیرِ اہتمام لانگ مارچ راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

ہلاکتوں کی حتمی تعداد پر ابھی تک اختلاف موجود ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں اور مقامی رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ سیکیورٹی آپریشن کے دوران 20 سے 21 مظاہرین ہلاک ہوئے، جبکہ آزاد جموں کشمیر پولیس نے تاحال کسی بھی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

کشیدگی کیسے شروع ہوئی

پولیس کے مطابق باضابطہ تصدیق اس وقت ممکن ہو گی جب لاشیں ہسپتالوں کو موصول ہوں گی اور پوسٹ مارٹم سمیت میڈیکو لیگل کارروائی مکمل ہو جائے گی۔

دوسری جانب پونچھ ریجن کے نائب انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر نے الزام عائد کیا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح گروہوں نے بار بار وارننگ کے باوجود زبردستی راولاکوٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس سے دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

کمیٹی نے یہ الزامات مسترد کر دیے۔ JAAC کا اصرار ہے کہ جلوس پرامن رہا یہاں تک کہ سیکیورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا۔ ایک عینی شاہد اور کمیٹی رہنما کے مطابق مظاہرین چنار چوک سے ڈی چوک کی جانب بڑھ رہے تھے اور مقبول بٹ شہید چوک پر رات بسر کرنے والے تھے کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

مقتولین کی شناخت

شام تک مقامی ذرائع نے نو ہلاک شدگان کی شناخت باسط شاہ (حاجرہ)، فہیم افضل (چھوٹا گلہ)، عثمان نذیر، کاشف یعقوب (چھوٹا گلہ)، خواجہ زرغم (دڑیک، راولاکوٹ)، نعیم بٹ (بیلہ ڈھمول، کوٹلی) اور سردار جعفر پہلوان کے ناموں سے کی۔ عثمان نذیر تحریک کے بانی عمر نذیر کشمیری کے چھوٹے بھائی بتائے جاتے ہیں۔

حکومت کا موقف اور تعطل کا شکار مذاکرات

وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کسی مذاکرات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ مظاہرین انتخابات رکوانا چاہتے ہیں اور 12 نشستیں ختم کروائے بغیر احتجاج ختم کرنے پر تیار نہیں۔

کمیٹی نے اتوار کے روز اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف 5 جون 2026 کے بعد ریاست کے اقدامات کی واپسی پر احتجاج ختم کرنے پر رضامند تھے، اور کمیٹی نے کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کی واپسی اور فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے معاوضے کے مطالبات سے بھی دستبرداری ظاہر کی۔ تاہم حکومت نے قیدیوں کی رہائی، لاشوں کی حوالگی اور مقدمات ختم کرنے کے مطالبات ماننے سے انکار کیا۔

اہم نکات

  • راولاکوٹ میں فائرنگ سے ہلاکتیں: مختلف ذرائع کے مطابق 14 سے 21 کے درمیان
  • آزاد جموں کشمیر پولیس نے تاحال کسی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی
  • کمیٹی نے کالعدم فیصلے اور معاوضے کے مطالبات سے دستبرداری ظاہر کی، حکومت نے قیدیوں کی رہائی سے انکار کیا
  • میرپور میں پہلے مرحلے کی پولنگ، سرکاری ٹرن آؤٹ 40 فیصد بمقابلہ مقامی دعویٰ 10-15 فیصد
  • منگل کی صبح مقبول بٹ شہید چوک پر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان متوقع

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

راولاکوٹ میں کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
ذرائع کے مطابق تعداد 14 سے 21 کے درمیان ہے؛ حتمی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔

JAAC کیا مطالبہ کر رہی ہے؟
کمیٹی 5 جون 2026 کے بعد کیے گئے ریاستی اقدامات کی واپسی چاہتی ہے۔

حکومت نے کیا مطالبات مسترد کیے؟
قیدیوں کی رہائی، لاشوں کی حوالگی اور مقدمات کے خاتمے کے مطالبات۔

میرپور الیکشن کا ٹرن آؤٹ کتنا رہا؟
سرکاری اعداد کے مطابق 40 فیصد، جبکہ مقامی ذرائع 10-15 فیصد کا دعویٰ کرتے ہیں۔

میرپور میں انتخابات، ٹرن آؤٹ پر سوالات

دریں اثنا، میرپور ڈویژن کے تین اضلاع کی 13 نشستوں پر انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ بھی اسی روز مکمل ہوئی۔ حکام نے ووٹنگ کی شرح 40 فیصد بتائی، جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور مقامی رہائشیوں کے مطابق حقیقی ٹرن آؤٹ کہیں کم، یعنی محض 10 سے 15 فیصد کے لگ بھگ رہا۔ دونوں اعداد و شمار میں واضح فرق کے باعث اصل ٹرن آؤٹ کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔