google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

اقوام متحدہ کی رپورٹ: پاکستان سمیت 10 ممالک میں دنیا کی دو تہائی

ایس این این نیوز اردو

April 26, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حماد کاہلوں

ایس این این نیوز

H1: 2025 میں 266 ملین افراد شدید غذائی بحران کا شکار، اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ جاری

تعارف: عالمی سطح پر بڑھتا ہوا خوراک کا بحران

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا میں خوراک کا بحران خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریباً 266 ملین افراد شدید غذائی قلت اور بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، جو 47 ممالک اور خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان متاثرہ افراد میں سے دو تہائی آبادی صرف 10 ممالک میں مرکوز ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غربت، جنگوں، مہنگائی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

بھوک اور غذائی بحران کا سب سے زیادہ شکار ممالک

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے مشترکہ اعداد و شمار کے مطابق درج ذیل ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں:

  • افغانستان
  • بنگلہ دیش
  • کانگو
  • میانمار
  • نائیجیریا
  • پاکستان
  • جنوبی سوڈان
  • سوڈان
  • شام
  • یمن
  • اقوام

ان ممالک میں لاکھوں افراد روزانہ خوراک کی کمی، مہنگائی اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں۔

جنگی حالات اور معاشی بحران اہم وجوہات

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری جنگیں غذائی عدم تحفظ کی بڑی وجہ ہیں۔ مسلسل تنازعات نے:

  • زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے
  • سپلائی چین کو نقصان پہنچایا ہے
  • لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے
  • خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے
  • اقوام

خاص طور پر غزہ اور سوڈان میں قحط کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا گیا ہے، جہاں لاکھوں افراد فوری امداد کے محتاج ہیں۔

کچھ ممالک میں بہتری، لیکن مجموعی صورتحال اب بھی خطرناک

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ ممالک میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے، جن میں:

  • بنگلہ دیش
  • شام

اس کے برعکس افغانستان، میانمار اور زمبابوے میں صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے، جہاں غذائی تحفظ کا بحران برقرار ہے۔

266 ملین افراد شدید غذائی بحران کا شکار

رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں:

  • 47 ممالک میں 266 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہیں
  • یہ تعداد 2016 کے مقابلے میں دوگنی ہو چکی ہے
  • صورتحال مسلسل بگڑنے کے خطرات موجود ہیں

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

بین الاقوامی امداد میں کمی پر انتباہ

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ عالمی امداد میں کمی سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر کمزور معیشت والے ممالک میں خوراک کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے سالوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ:

  • توانائی کی بڑھتی قیمتیں زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں
  • کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے
  • فصلوں کی پیداوار میں کمی کا خدشہ بڑھ رہا ہے

بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) کے سربراہ الوارو لاریو نے کہا کہ موجودہ حالات میں کسانوں کی مدد ناگزیر ہے۔

زرعی پیداوار اور کسانوں کے لیے چیلنجز

الوارو لاریو کے مطابق زرعی شعبہ اس وقت دباؤ کا شکار ہے کیونکہ:

  • پیداوار کے اخراجات بڑھ رہے ہیں
  • توانائی مہنگی ہو رہی ہے
  • کھاد اور زرعی اجزاء مہنگے ہو چکے ہیں

انہوں نے کہا کہ اگر مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار اور مٹی کی بہتری پر توجہ دی جائے تو بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ممکنہ حل اور سفارشات

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کئی اہم سفارشات بھی شامل ہیں:

  • کسانوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے
  • زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے
  • مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار کو فروغ دیا جائے
  • غذائی تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط بنایا جائے
  • جنگ زدہ علاقوں میں فوری انسانی امداد فراہم کی جائے
  • اقوام

عالمی سطح پر بڑھتا ہوا خطرہ

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو دنیا کو آئندہ برسوں میں ایک بڑے انسانی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر غریب اور ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے، جہاں مہنگائی اور معاشی دباؤ پہلے ہی عوام کو متاثر کر رہا ہے۔

نتیجہ: فوری عالمی اقدامات کی ضرورت

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ عالمی بھوک اور غذائی بحران اب ایک سنگین انسانی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر فوری اور مشترکہ اقدامات نہ کیے گئے تو متاثرہ افراد کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر سماجی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوگا۔

مزید تفصیلات کے لیے اقوام متحدہ کی تازہ غذائی بحران رپورٹ پڑھیں جو عالمی بھوک کی صورتحال کو واضح کرتی ہے۔