اسکینڈے نیوین نیوز اردو

افریقہ میں بدنام آدم خور مگرمچھ گستاف دوبارہ خبروں میں
افریقہ میں بدنام آدم خور مگرمچھ گستاف دوبارہ خبروں میں

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شمائلہ اسلم


ایس این این نیوز اردو


بیورو چیف پاکستان

افریقہ میں جھیل تانگانیکا کے کنارے خوف و دہشت کی علامت بن جانے والا دیو ہیکل آدم خور مگرمچھ “گستاف” ایک بار پھر

خبروں میں ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق یہ 20 فٹ طویل اور ایک ٹن وزنی مگرمچھ گزشتہ کئی دہائیوں میں تقریباً تین سو

افراد کو اپنا شکار بنا چکا ہے، جبکہ اسے پکڑنے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔

گستاف پہلی بار 1987 میں اس وقت سامنے آیا جب اس نے اپنا پہلا انسانی شکار کیا۔ اس کے بعد سے علاقے میں ہر لاپتا شخص،

دریا کنارے ملنے والی لاش یا اچانک حملے کا ذمہ دار اسے ہی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نائل کروکوڈائل نسل سے

تعلق رکھتا ہے جو اپنی طاقت، جسامت اور جارحیت کے باعث بدنام ہے۔

گستاف کو کئی بار نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے سر پر گولی لگنے کا نشان آج بھی اس کی شناخت سمجھا جاتا ہے۔

ایک شکاری نے اس پر تین گولیاں چلائی تھیں جن میں سے ایک اس کے سر کو چھوتے ہوئے گزری تھی، جو اب تک اس کی پہچان بنی ہوئی ہے۔

اس مگرمچھ کی تلاش کے لیے باقاعدہ مہمات چلیں، جال بچھائے گئے، جانوروں کو بطور چارہ باندھا گیا، حتیٰ کہ 2004 میں ایک

سائنسی ٹیم نے اسے پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈاکیومنٹری بھی بنائی۔ مگر جھیل تانگانیکا کی وسعت اور مگرمچھ کی چالاکی

کے باعث ہر کوشش ناکام رہی۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ گستاف مر چکا ہے، مگر بیشتر ماہرین کے مطابق وہ اب بھی زندہ ہے۔ مقامی لوگ بھی اس

’’عفریت‘‘ سے خوفزدہ رہتے ہیں، کیونکہ آج بھی جھیل کے کناروں سے افراد کے غائب ہونے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وکی پیڈیا پر بھی گستاف کے نام سے ایک مکمل پیج موجود ہے، جو اس مگرمچھ کی شہرت اور خوف

کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید دلچسپ اور سنسنی خیز عالمی رپورٹس یہاں پڑھیں۔