google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

اسٹارووبلسک ڈرون حملہ: ووکیشنل کالج ہوسٹل پر حملے میں 18 ہلاکتیں

ایس این این نیوز اردو

May 25, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حماد کاہلوں
فن رائٹ انٹرنیشنل

فن رائٹ انٹرنیشنل کا فوری ردعمل اور شفاف تحقیقات کی اپیل

ہیلسنکی، فن لینڈ 25 مئی 2026 کو فن لینڈ کی انسانی حقوق کی تنظیم فن رائٹ انٹرنیشنل نے یوکرین کے شہر اسٹارووبلسک میں ایک ووکیشنل کالج کے ہوسٹل پر مبینہ ڈرون حملے کی فوری اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کے مطابق تصدیق شدہ فیلڈ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق اور 42 زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرین میں زیادہ تر نوجوان طالبات شامل ہیں جو ہوسٹل میں رہائش پذیر تھیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

متاثرہ مقام: تعلیمی ادارے کا ہوسٹل

ابتدائی معلومات کے مطابق حملے کا نشانہ ایک ووکیشنل کالج کا رہائشی ہوسٹل تھا جہاں طلبہ رہائش پذیر تھے۔ دھماکے کے باعث عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور کئی کمرے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

ریسکیو ٹیمیں ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکام نے ابھی تک مکمل تصدیق شدہ فہرست جاری نہیں کی، تاہم ابتدائی رپورٹس میں زیادہ تر متاثرین طالبات بتائی جا رہی ہیں۔

فن رائٹ انٹرنیشنل کے اہم مطالبات

فن رائٹ انٹرنیشنل، جو فن لینڈ کے شہر پوری میں قائم ایک غیر جانبدار انسانی حقوق تنظیم ہے، نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم نے یوکرینی فوجی اور تفتیشی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات کریں۔

تنظیم کے بنیادی مطالبات درج ذیل ہیں:

  • ڈرون حملے کی فوری اور غیر جانبدار تحقیقات
  • کمانڈ چین اور ذمہ دار اداروں کی نشاندہی
  • استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تفصیل
  • 72 گھنٹوں میں ابتدائی رپورٹ کی اشاعت
  • 30 دن کے اندر مکمل تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے
  • اسٹارووبلسک

تنظیم نے مزید کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر یوکرین کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن کو باضابطہ یادداشت بھی جمع کرائے گی۔

شہری علاقوں پر حملوں پر عالمی تشویش

انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ کسی بھی فریق کی ذمہ داری سے قطع نظر، شہری انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق درج ذیل مقامات کو خصوصی تحفظ حاصل ہے:

  • تعلیمی ادارے اور کالجز
  • طلبہ کے ہوسٹل اور رہائشی عمارتیں
  • اسپتال اور طبی مراکز
  • عام شہری آبادی والے علاقے
  • اسٹارووبلسک

ان اداروں پر ہونے والے حملے بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ تصور کیے جاتے ہیں۔

امدادی کارروائیاں اور صورتحال

اسٹارووبلسک میں ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ تباہ شدہ عمارت کے ملبے میں زندہ افراد کی تلاش جاری ہے جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق صورتحال اب بھی کشیدہ ہے اور مکمل نقصان کا اندازہ لگانے میں وقت لگ سکتا ہے۔

عالمی انسانی حقوق کا ردعمل

ماہرین کے مطابق جدید جنگی حالات میں ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہری آبادی کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

اہم خدشات میں شامل ہیں:

  • ہدف کی درست شناخت میں غلطی
  • شہری علاقوں میں غیر ارادی نقصان
  • معلومات کی غیر شفافیت
  • بعد از حملہ احتساب کی کمی
  • اسٹارووبلسک

فن رائٹ انٹرنیشنل نے زور دیا ہے کہ متاثرین کے لیے انصاف، شفافیت اور فوری تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

نتیجہ

اسٹارووبلسک کا یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگی حالات میں شہری تحفظ کتنا اہم ہے۔ تعلیمی اداروں اور رہائشی عمارتوں پر حملوں نے عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے،اسٹارووبلسک جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں فوری اور آزاد تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

/اسٹارووبلسک-ہوسٹل-ڈرون-حملہ-تحقیقات-فن-رائٹ-انٹرنیشنل