اسکینڈے نیوین نیوز اردو

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ملک دشمن عناصر کے لیے سخت انتباہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ملک دشمن عناصر کے لیے سخت انتباہ

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شمائلہ اسلم

ایس این این نیوز

بیورو چیف پاکستان

پاکستان کی فوجی قیادت نے ایک بار پھر بلوچستان میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔ فیلڈ

مارشل سید عاصم منیر نے ملک دشمن عناصر اور علیحدگی پسند گروپوں کو سخت پیغام دیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان

کی سالمیت اور بلوچستان کی حفاظت کے لیے اپنی عزم کا اعادہ کیا۔

فیلڈ مارشل منیر نے کہا:


“کیا تم سمجھتے ہو کہ 1500 آدمیوں کے ساتھ تم بلوچستان لے جاؤ گے؟ تمہاری اگلی 10 نسلیں بھی اسے لے جانے کے قابل نہیں ہوں گی۔”

یہ بیان ملک دشمن اور دہشت گرد عناصر کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ پاکستان کی فوج اپنی سرزمین اور عوام کی حفاظت

کے لیے ہر حال میں سرگرم ہے۔

بلوچستان میں سیکیورٹی کے چیلنجز

بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، جغرافیائی اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم، یہ صوبہ

علیحدگی پسند تحریکوں اور دہشت گرد سرگرمیوں کا شکار رہا ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور دیگر گروپ صوبے میں

امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان آرمی اور سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں کئی آپریشنز کیے ہیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کو

ختم کیا جا سکے اور عام شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

طاقت اور اتحاد کا پیغام

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پیغام صرف مسلح گروپوں کے لیے نہیں بلکہ سیکیورٹی فورسز اور عوام کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے۔

ان کے الفاظ یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی سیکیورٹی ادارے مضبوط اور متحد ہیں اور ملک دشمن عناصر کے کوئی بھی

منصوبے کامیاب نہیں ہوں گے۔

پاکستان آرمی کی اہمیت

پاکستان آرمی ہمیشہ ملک کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں فوجی

آپریشنز کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کرنا، حملوں کو روکنا اور امن قائم رکھنا ہے۔

یہ آپریشنز اکثر انٹر سروسز انٹیلیجنس (ISI) اور دیگر مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیے جاتے ہیں تاکہ دہشت

گرد عناصر کی کمر توڑی جا سکے اور عوام کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

عوامی حمایت

فیلڈ مارشل کا بیان عام شہریوں کے درمیان بھی پذیرائی حاصل کر رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں لوگ دہشت

گردی کے خطرے میں رہتے ہیں۔ شہری پاکستان آرمی کی قربانیوں اور امن قائم رکھنے کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے

دیکھتے ہیں۔

بلوچستان کے رہائشی امن اور ترقی کے خواہاں ہیں، اور حکومت کی جانب سے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی

منصوبے بھی جاری ہیں تاکہ صوبے میں معاشی ترقی اور بنیادی سہولیات بہتر ہوں۔

سیاسی اور بین الاقوامی ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ وزیراعظم نے فورسز

کی بروقت کارروائیوں کی تعریف کی، جبکہ وزیر داخلہ نے ان واقعات کو ایک “ہندوستانی سازش” قرار دیا، جس میں علیحدگی

پسند گروپوں کی حمایت کا الزام شامل ہے۔

بین الاقوامی حلقے بھی پاکستان کی بلوچستان میں امن قائم رکھنے کی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ صوبہ

جغرافیائی اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف طویل مدتی حکمت عملی

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بیان اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی حکمت عملی طویل مدتی ہے۔

آپریشنز صرف وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کرنے اور صوبے میں امن قائم رکھنے کے لیے

کیے جاتے ہیں۔

پاکستان آرمی مسلسل اپنی حکمت عملی میں بہتری لا رہی ہے، جس میں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز، مقامی کمیونٹی کے

ساتھ تعاون اور مقامی حکام کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔ یہ جامع حکمت عملی دہشت گرد اثرات کو کم کرنے اور عوامی

اعتماد قائم رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

نتیجہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ملک دشمن عناصر کے لیے سخت انتباہ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کی

حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ بلوچستان میں کوششیں جاری ہیں تاکہ عوام کے لیے محفوظ، مستحکم اور

ترقی پذیر ماحول فراہم کیا جا سکے۔

“مزید پڑھیں: پاکستان آرمی کے بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشنز اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات