اسکینڈے نیوین نیوز اردو

کوہستان اسکینڈل ہیڈ کلرک کی 14 ارب کی پلی بارگین
کوہستان اسکینڈل ہیڈ کلرک کی 14 ارب کی پلی بارگین

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

عابدہ کاہلوں


ایس این این اردو

کوہستان مالیاتی اسکینڈل نے ایک بار پھر پاکستان کے احتسابی نظام پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک ہیڈ کلرک کی

کرپشن کا حجم 14 ارب روپے تک جا پہنچا، جبکہ بڑے مگرمچھ ہمیشہ کی طرح پس منظر میں ہی رہے۔

نیب ذرائع کے مطابق، کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار مرکزی ملزم قیصر اقبال نے احتساب عدالت میں 14 ارب روپے کی

پلی بارگین کی درخواست جمع کرا دی ہے۔ یہ درخواست نیب کے تفتیشی افسر کے ذریعے عدالت میں پیش کی گئی، جسے

عدالت نے منظوری کے لیے ڈی جی نیب کو ارسال کر دیا ہے۔ چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد درخواست دوبارہ عدالت میں

پیش کی جائے گی، جہاں توثیق کی صورت میں پلی بارگین منظور ہونے کا امکان ہے۔

حیران کن پہلو یہ ہے کہ ملزم محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں محض ایک ہیڈ کلرک تھا، جس نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں

روپے نکلوا لیے، جبکہ وہ منصوبے زمینی حقیقت میں کہیں موجود ہی نہیں تھے۔

نیب کے مطابق، ملزم نے اپنے، اہلیہ اور قریبی رشتہ داروں کے نام پر گھروں، فلیٹس، پلازوں، قیمتی گاڑیوں، نقد رقم اور سونے

سمیت بے شمار اثاثے بنائے۔ اس اسکینڈل میں اب تک 32 سے زائد ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ایک کلرک کیسے کرپٹ ہوا، بلکہ یہ ہے کہ یہ سب اکیلے کیسے ممکن ہوا؟ اگر نظام میں شفافیت ہوتی

تو نہ جعلی اسکیمیں کاغذوں میں زندہ رہتیں، نہ اربوں روپے خاموشی سے نکل سکتے تھے۔

پلی بارگین کا موجودہ تصور عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ لوٹ مار کرو، اثاثے بناؤ، اور پکڑے جانے پر کچھ رقم واپس کر کے بچ

نکلنے کا راستہ اختیار کر لو۔ یہی وجہ ہے کہ احتساب کا نظام خوف پیدا کرنے کے بجائے کرپشن کو مزید جواز فراہم کرتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ اسکینڈل واضح کرتا ہے کہ مسئلہ چند افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ جب تک بڑے مگرمچھوں کا احتساب نہیں ہوگا،

عوام کے ساتھ یہی کھیل جاری رہے گا۔