شمائلہ اسلم
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
ایس این این نیوز اردو
بیورو چیف پاکستان
باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی دوسری جیل منتقل کرنے کے آپشن پر
سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب حکومتی حلقوں اور متعلقہ اداروں میں یہ مؤقف زور
پکڑنے لگا کہ قیدی نمبر 804 کی موجودگی نے اڈیالہ جیل کے معمولات اور سیکیورٹی انتظامات کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی وجہ سے جیل اسٹاف اور دیگر قیدیوں کی زندگی
مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے لیے سخت سیکیورٹی، خصوصی پروٹوکول، بار بار کی پابندیاں اور
سیکیورٹی ہائی الرٹ کی وجہ سے جیل نظام دباؤ کا شکار ہوا ہے۔
اختیار ولی نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے لیے غیر معمولی انتظامات کے باعث نہ صرف جیل انتظامیہ پر بوجھ بڑھا ہے بلکہ
دیگر قیدی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ، جیل حکام اور متعلقہ سیکیورٹی ادارے اس آپشن پر
مشاورت کر رہے ہیں کہ اگر ضروری ہوا تو عمران خان کو کسی ایسی جیل میں منتقل کر دیا جائے جہاں سیکیورٹی اور انتظامات
بہتر طریقے سے سنبھالے جا سکیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سلسلے میں چند مخصوص جیلوں کا ابتدائی طور پر جائزہ لیا گیا ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی
فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اگر حکومت نے جیل منتقلی کا فیصلہ کیا تو اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔
حکومتی مؤقف کے برعکس تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ عمران خان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی
رہنماؤں کے مطابق جیل منتقلی کا مقصد عمران خان پر مزید دباؤ ڈالنا اور سیاسی منظرنامے کو متاثر کرنا ہے۔
موجودہ صورتحال نے نہ صرف سیاسی گرماگرمی میں اضافہ کیا ہے بلکہ ملک کی مجموعی سیاسی فضاء بھی ایک بار پھر تناؤ
کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
