اسکینڈے نیوین نیوز اردو

اسلام آباد میں کم عمر ڈرائیور کی لاپرواہی سے دو خواتین جاں
اسلام آباد میں کم عمر ڈرائیور کی لاپرواہی سے دو خواتین جاں بحق

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شمائلہ اسلم


ایس این این نیوز اردو


بیورو چیف پاکستان

اسلام آباد کے سیکرٹریٹ چوک کے قریب پیش آنے والے دلخراش حادثے نے پورے ملک میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ میٹرو

اسٹیشن کے سامنے دو نوجوان خواتین اس وقت جاں بحق ہوئیں جب ایک تیز رفتار سفید ایس یو وی نے اسکوٹر کو زور دار ٹکر

ماردی۔ حادثے کے بعد پولیس نے 16 سالہ ڈرائیور کو جیل میں ڈال دیا گیا۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟

پیر اور منگل کی درمیانی شب، 25 سالہ سمرین اور 27 سالہ تبندہ جو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں ایک ایونٹس

مینجمنٹ ٹیم کے ساتھ جزوقتی ملازمت کرتی تھیں اپنے گھر لوٹ رہی تھیں۔ دونوں اسکوٹر پر تھیں کہ اچانک ایک سفید ایس

یو وی ان سے ٹکرا گئی۔ شدید زخمی ہونے کے باعث دونوں خواتین جانبر نہ ہو سکیں۔

ڈرائیور سوشل میڈیا پر مصروف تھا

پولیس تحقیقات کے مطابق ڈرائیور محمد ابوذر ریکی حادثے کے وقت اسنیپ چیٹ ویڈیو بنا رہا تھا، جس سے اس کی توجہ ہٹ

گئی اور گاڑی بے قابو ہو گئی۔ واقعے کے فوراً بعد اس نے مبینہ طور پر اپنا موبائل فون بھی پھینک دیا۔

مزید یہ کہ اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔ گاڑی کے رجسٹریشن نمبر سے اس کی شناخت ہوئی اور بعدازاں اسے اسپتال سے گرفتار کر لیا گیا۔

ڈرائیور کا پس منظر تشویش کا باعث

رپورٹس کے مطابق ملزم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف کا بیٹا ہے، جس کی وجہ سے تحقیقات پر ممکنہ اثر و

رسوخ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


چونکہ ملزم کی عمر صرف 16 سال ہے، اس لیے وہ قانونی طور پر گاڑی چلانے کا اہل بھی نہیں تھا۔

مقدمے کی دفعات اور پولیس کارروائی

اسلام آباد پولیس نے اس واقعے کو سنگین لاپروائی قرار دیتے ہوئے درج ذیل دفعات شامل کیں:

  • دفعہ 279 — عوامی جگہ پر لاپرواہی سے گاڑی چلانا
  • دفعہ 322 — قتلِ خطا
  • دفعہ 427 — نقصان پہنچانے کی شرارت

جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کی درخواست پر چار روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کر لیا ہے۔ گاڑی قبضے میں لے لی گئی

ہے جبکہ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور فارنزک شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔

پرانے مقدمے کی مثال نے عوامی خدشات بڑھا دیئے

یہ حادثہ 2022 کے اس کیس کی یاد بھی تازہ کر گیا جس میں ایک سینئر جج کی بیٹی کے چلائے گئے ایس یو وی کے حادثے میں دو

افراد جاں بحق ہوئے تھے، لیکن برسوں بعد بھی کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی۔


اسی پس منظر کی وجہ سے عوام سوال اٹھا رہی ہے کہ آیا اس بار بھی طاقتور خاندان ہونے کی بنا پر انصاف متاثر تو نہیں ہوگا۔

ایک لڑکی کے خاندان نے صلح قبول کر لی

تازہ اطلاعات کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والی ایک لڑکی کا خاندان صلح پر آمادہ ہو گیا ہے، جب کہ دوسری فیملی کو

منانے کی کوششیں رات گئے تک جاری رہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور دفعات اور چار روزہ جسمانی ریمانڈ دراصل اسی “صلح کے دباؤ” کی تیاری ہی معلوم ہوتا ہے تاکہ

ملزم کو جیل جانے سے بچایا جا سکے۔

سوشل میڈیا اور نوجوان ڈرائیورز—ایک جان لیوا امتزاج

یہ المناک واقعہ اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ موبائل فون، خصوصاً سوشل میڈیا کی وجہ سے ڈرائیونگ کے دوران عدم

توجہی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔


کم عمر ڈرائیورز میں تیز رفتاری اور غیر ذمہ دارانہ رویہ پہلے ہی ایک بڑے خطرے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

عوام کی نگاہیں اب انصاف پر

جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، عوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ملزم کے بااثر پس منظر کے باوجود قانون

برابر طور پر لاگو ہوگا یا نہیں۔


ملک بھر میں یہ مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ حادثات میں ملوث بااثر خاندانوں کے بچوں کو بھی وہی سزائیں ملنی چاہئیں

جو عام شہریوں کو ملتی ہیں۔


مزید حادثات سے متعلق رپورٹس پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔