شمائلہ اسلم
ایس این این نیوز اردو
بیورو چیف پاکستان
برکینا فاسو کے 37 سالہ رہنما کیپٹن ابراہیم ترورے نے ایک ایسا نیا قانون نافذ کیا ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب کھینچ
لی ہے۔ اس قانون کا مقصد چوری جیسے جرائم سے نمٹنے کے طریقۂ کار کو بدلنا اور مجرموں کو جیلوں کے بوجھ سے نکال کر معاشرے کی ترقی میں شامل کرنا ہے۔
نئے اصول کے مطابق، اب چوری کے مرتکب افراد کو روایتی جیل کی سزا نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی شخص چوری کرتے ہوئے پکڑا
جائے تو اسے حراست میں تو رکھا جائے گا مگر جیل نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کے بجائے انہیں سرکاری یا قومی ترقیاتی منصوبوں پر
لازمی کام کروایا جائے گا، اور یہ کام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہ چوری کی گئی رقم مکمل طور پر واپس نہ کر دیں۔
کیپٹن ترورے کا کہنا ہے کہ:
“ہم چوری کو سزا کے بجائے قرض کی واپسی کی شکل دے رہے ہیں۔ مجرم جیلوں میں بیٹھ کر ریاست پر بوجھ بننے کے
بجائے ملک کی تعمیر میں حصہ ڈالیں گے۔ یہ قانون ہمارے معاشرے کے تحفظ اور معیشت کو مضبوط بنانے کا عملی قدم ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ویژن اور مضبوط قیادت کا نایاب امتزاج ہے، جو افریقہ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس
فیصلے کو عوام میں بھی مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جیلوں پر دباؤ کم کرنے اور قومی ترقی میں تیزی لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
