شمائلہ اسلم
بیورو چیف اسلام آباد
امریکا نے ریتیون کے ایک بین الاقوامی معاہدے میں ترمیم کر کے
پاکستان کو جدید درمیانے فاصلے کے فضا سے فضا تک مار کرنے والے
AIM-120 (AMRAAM) میزائلوں کی خریداری کے ممکنہ
خریداروں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت C-8
اور D-3 قسم کے جدید ماڈلز کی پیداوار اور ترسیل جاری رکھنے کے
لیے معاہدے میں 41.6 ملین ڈالر کی فِرم فِکسڈ قیمت (firm-fixed-
price) اضافہ کیا گیا ہے۔
ریتیون کو دی جانے والی اس ترمیم کا اطلاق ایک پہلے سے دیے گئے
بڑے معاہدے (جس کی کل مالیت تقریباً 2.5 بلین ڈالر بنتی ہے) پر کیا
گیا ہے اور دستاویزات کے مطابق یہ پیداوار کے مرحلے کو مئی 30،
2030 تک مکمل کرے گی۔ معاہدے کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ کام
بنیادی طور پر ٹوسن، ایریزونا میں انجام دیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ AIM-120 (AMRAAM) میزائلوں کی فراہمی
پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی ہوائی جنگی صلاحیت (BVR —
beyond-visual-range) کو مضبوط کرے گی اور یہ ایف-16 اپ
گریڈیشن کو عملی طور پر آگے بڑھانے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ تاہم
خبریں یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ معاہدے میں شامل ممالک کی
فہرست میں پاکستان کا نام شامل کرنے کے باوجود مخصوص
یونٹس، ترسیل کے جدول یا قیمت کے تفصیلی اعداد و شمار عام طور
پر حکومت کے درمیان فریقین کے سرکاری نوٹیفیکیشنز میں بعد میں
ظاہر ہوتے ہیں۔
علاقائی سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے یہ پیشرفت پڑوسی ممالک میں
دفاعی توازن اور سفارتی معاملات پر اثر انداز ہو سکتی ہے — تجزیہ
کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہتھیاروں کی فراہمی کے فیصلے
عموماً سیاسی و سفارتی اندازوں کے تحت کیے جاتے ہیں اور ڈیل کے
تکنیکی پہلوؤں (جیسے تربیت، لائسنسنگ یا لاجسٹکس) بعد کی
حکومتی سطح پر طے پاتے ہیں۔ اسی طرح، امریکی محکمۂ جنگ
(DoW) کی کنٹریکٹس فہرست میں شراکت دار ممالک کے نام آنے کا
مطلب یہ ہوتا ہے کہ پیداوار لائن میں مزید ممالک کو شامل کیا جا رہا
ہے، مگر ہر ملک کے لیے علیحدہ گورنمنٹ-ٹو-گورنمنٹ نوٹیفکیشنز
ضروری ہوتے ہیں۔