(شاہین اقبال طاہر)
ننکانہ صاحب / شاہکوٹ صفدرآباد تحصیل کے نواحی گاؤں چک 537
گ ب ملیانوالی کی جوان شادی شدہ خاتون کلثوم مشتاق مبینہ طور
پر جعلی عَلَمی علاج کے نام پر چار روز تک بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنی،
جس کے بعد اس نے ذہنی توازن کھو دیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈی
پی او ننکانہ صاحب فراز احمد نے فوری نوٹس لیا اور ساس آمینہ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق کلثوم کی شادی چند ماہ قبل عرفان نامی
شخص سے ہوئی تھی اور شادی سے قبل وہ جسمانی و ذہنی طور پر
صحت مند تھی۔ سسرالیوں نے مبینہ طور پر بدنام زمانہ عامل “چن
پیر” سے رابطہ کیا جو دعویٰ کرتا تھا کہ متاثرہ پر جنات ہیں اور
علاج کے لیے تشدد ضروری ہے۔ اس بہانے چار روز تک کلثوم کو لات
مارا، چھڑیوں سے پیٹا، بال کھینچے اور قید میں رکھا گیا۔ تشدد کے
دوران ملزمان کی موجودگی میں متعدد ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔
واقعے کے بعد متاثرہ کے بھائی جب اسے لے جانے گئے تو سسرالیوں نے
انہیں دھکے دیے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ محلی افراد
کی مداخلت کے بعد کلثوم کو بازیاب کروایا گیا، مگر اس وقت تک وہ
بے ہوش اور ذہنی طور پر متاثرہ ہو چکی تھی۔ ہوش میں آنے کے بعد
وہ بار بار چیخ کر کہتی ہے: “مجھے نہ مارو، میں نے کچھ نہیں کیا۔”
پولیس کا کہنا ہے کہ ساس آمینہ بی بی کو حراست میں لے کر تفتیش
شروع کر دی گئی ہے جبکہ شوہر عرفان، نند فاطمہ اور مبینہ جعلی
عامل چن پیر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ پولیس ترجمان
نے کہا کہ انصاف یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی ملزم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مقامی سطح پر عوامی غم و غصہ شدید ہے اور سوشل میڈیا پر
لوگوں نے جعلی عامل اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت
کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے متاثره خاتون
کے لیے فوری طبی و نفسیاتی امداد فراہم کرنے اور ملزمان کے خلاف
مؤثر قانونی کارروائی کی اپیل کی ہے۔