حماد کاہلوں
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
ایس این این نیوز اردو
سابق چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی نے رجسٹرار کے ذریعے حکومت کو درخواست دی کہ چونکہ وہ بطور سابق جج ہر ماہ دو ہزار یونٹ بجلی مفت لینے کے حق دار ہیں،
اور ان کے گھر میں سولر سسٹم لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ یہ یونٹ استعمال نہیں کرتے، اس لیے ان یونٹس کے بدلے انہیں رقم ادا کی جائے۔
فنانس ڈویژن نے سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار کو جواب میں واضح کیا کہ سابق ججز کو دو ہزار یونٹ بجلی مفت ضرور فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن اگر یہ یونٹ استعمال نہ ہوں تو ان کے بدلے پیسے دینے کی کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔
“سابق چیف جسٹس کے بجلی یونٹس کے معاملے پر حکومت کا مؤقف جاننے کے لیے مکمل خبر پڑھیں