حماد کاہلوں
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
ایس این این نیوز اردو
لندن میں ریلوے ملازمین کی ہڑتال نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ انڈر گراؤنڈ ٹیوب ریل کی متعدد لائنیں بند ہونے سے سٹیشنز پر مسافروں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور سفری نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا۔ ہڑتال کے باعث لاکھوں افراد کو متبادل ذرائع آمد و رفت استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔
بسوں پر رش کئی گنا بڑھ گیا ہے جبکہ اوور لینڈ ریل سروس بھی جزوی طور پر متاثر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کے سفر میں مشکلات کے باعث نہ صرف وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
کاروباری سرگرمیوں پر بھی اس ہڑتال کے اثرات نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں گاہکوں کی آمد کم ہو گئی ہے جس سے کاروبار متاثر ہوا ہے۔
ریل یونین کے ملازمین کا مؤقف ہے کہ اجرت میں خاطر خواہ اضافہ اور کام کے دباؤ میں کمی ان کا بنیادی حق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مسلسل سخت ڈیوٹی کے باعث موجودہ حالات میں گزر بسر مشکل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، ٹرانسپورٹ حکام نے 3.4 فیصد تنخواہوں میں اضافے کی پیشکش کی تھی، تاہم یونین رہنماؤں نے اسے ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، احتجاج اور ہڑتال کا سلسلہ جاری رہے گا۔