حماد کحلون
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
اسکینڈی نیوین نیوز ایجنسی،
فن لینڈ
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو دہشت گردی کے باعث اب تک 152 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
یہ بات انہوں نے چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں رکن ممالک کے سربراہان نے خطے میں معاشی تعاون اور رابطوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور کئی بڑے حملے خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں غیر ملکی سرپرستی کے نتیجے میں ہوئے۔ انہوں نے جعفر ایکسپریس پر مارچ میں ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں بھی غیر ملکی کردار کے واضح شواہد سامنے آئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے اور تنازعات کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد تمام بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کا احترام کرتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ دیگر رکن ممالک بھی انہی اصولوں پر عمل کریں۔
وزیراعظم نے خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے جامع مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان قربانیوں کے باوجود امن کی خواہش رکھتا ہے اور کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھتا ہے۔