شمائلہ اسلم
اسکینڈے نیوین نیوز ایجنسی
بیورو چیف پاکستان
نئی دہلی:
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، بھارت میں ہر سال
سانپ کے کاٹنے کے قریب 50 لاکھ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے
نصف یعنی تقریباً 25 لاکھ افراد کے جسم زہر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں
سے تقریباً ایک لاکھ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ چار لاکھ افراد کو
مستقل جسمانی معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بی بی سی کی 2020 کی رپورٹ میں بھی ان اموات کی تعداد ایک لاکھ سالانہ
بتائی گئی ہے، جس سے انڈیا کو دنیا میں سانپ کے کاٹنے سے سب سے زیادہ
اموات والے ممالک میں شامل کیا جاتا ہے۔
مدھیہ پردیش کو ان علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں سانپ کے کاٹنے کے
واقعات عام ہیں۔ یہاں کی حکومت ان خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرتی
ہے جو میڈیکل اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کی بنیاد پر موت کی وجہ سانپ کا زہر ثابت کر سکیں۔
‘دی رائل سوسائٹی آف ٹراپیکل میڈیسن اینڈ ہائیجین’ میں 2024 میں شائع
ایک تحقیق کے مطابق، مدھیہ پردیش حکومت نے 2020-21 اور 2021-
22 کے دوران مجموعی طور پر 5,728 خاندانوں کو معاوضہ فراہم کیا، اور اس
مد میں 229 کروڑ روپے کی خطیر رقم تقسیم کی گئی۔