google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

سینیٹ نے سنگین جرائم میں سزائے موت ختم کر دی

شمائلہ اسلم

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!


اسکینڈے نیوین نیوز ایجنسی


بیورو چیف پاکستان

اسلام آباد:
سینیٹ نے جمعے کے روز کریمنل لاء (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے

دی، جس کے تحت کچھ مخصوص سنگین جرائم جیسے خواتین پر عوامی حملے

اور ہائی جیکرز کو پناہ دینا اب سزائے موت کی بجائے زیادہ سے زیادہ 25

سال قید کی سزا کے زمرے میں آ گئے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں مزید

دو اہم بلز بھی منظور کیے گئے، جن میں 1972 کا ایکسٹریڈیشن ایکٹ اور

1951 کا پاکستان شہریت ایکٹ شامل ہیں۔ تینوں بلز وزیر مملکت برائے

داخلہ طلال چودھری نے ایوان میں پیش کیے۔

کریمنل لاء (ترمیمی) بل میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 354-اے اور

402-سی میں ترمیم کی گئی ہے۔ تاہم، اپوزیشن کے سینیٹرز علی ظفر اور

ثمینہ ممتاز زہری نے بل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جرائم کی روک

تھام صرف سزا کی شدت سے ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا، “ہمارے ہاں

سزائے موت کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے۔ ہمیں اپنے نظام کو درست

کرنا ہوگا تاکہ انصاف کا عمل مؤثر ہو۔”