شمائلہ اسلم
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
اسکینڈے نیوین نیوز ایجنسی
بیورو چیف پاکستان
لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے منی لانڈرنگ،
دہشت گردوں کو مالی معاونت، اور غیر قانونی بینک اکاؤنٹس کھولنے کے
مقدمے میں ایک خاتون بینک افسر ثناء شوکت کی عبوری ضمانت کی توثیق کر
دی۔ عدالت نے انہیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض یہ رعایت دی۔
جج منظور علی گل کی عدالت میں سماعت کے دوران ملزمہ عدالت میں پیش
ہوئیں۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ثناء شوکت سمیت کئی
بینک افسران کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں الزام ہے کہ
انہوں نے ممنوعہ تنظیموں کے لیے غیر قانونی مالی لین دین میں سہولت فراہم کی۔
ایف آئی اے کے مطابق ان بینک افسران نے مشتبہ عناصر کے لیے غیر
قانونی اکاؤنٹس کھولے، جنہیں دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال
کیا گیا۔ مقدمے میں شامل دیگر نامزد ملزمان میں سید علی حسین، سعادت علی،
نعمان احمد، عمران اقبال، محمد شفیق، محمد عثمان اور عمران فاروق شامل
ہیں، جو مختلف بینکوں سے وابستہ ہیں۔