google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

پشاور ہائیکورٹ کا لانگ مارچ ریلیف سے انکار

ایس این این نیوز اردو

October 7, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

برائے محمد ضیاء محی الدین

پشاور ہائی کورٹ لانگ مارچ سے متعلق ایک اہم درخواست پر عبوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔ سماعت کے دوران جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے واضح کیا کہ عدالت فریقین کو سنے بغیر کوئی ریلیف جاری نہیں کر سکتی۔

عدالت نے معاملے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے، جس سے یہ قانونی معاملہ ہنوز غیر حل شدہ ہے اور فریقین کو مزید دلائل پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

پی ٹی آئی ایم پی اے کے وکیل کا مؤقف

درخواست دائر کرنے والے پی ٹی آئی ایم پی اے کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ لانگ مارچ کو درخواست گزاروں کے حلقوں سے گزرنے کی اجازت دی جائے۔ وکیل کے مطابق وہ قانون کے مطابق منعقد ہونے والے لانگ مارچ کو خوش آمدید کہیں گے، اور عدالت سے استدعا کی کہ مارچ میں کسی قسم کی ممکنہ رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا جوابی مؤقف

دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ لانگ مارچ سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی حکم جاری کر چکی ہے، جس کے بعد اس نوعیت کی علیحدہ درخواست کی قانونی حیثیت محدود ہو جاتی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ لانگ مارچ کیس: عدالتی رویہ

جسٹس صاحبزادہ اسداللہ کی جانب سے یہ کہنا کہ فریقین کو سنے بغیر ریلیف نہیں دیا جا سکتا، عدالتی طریقہ کار میں ایک معمول کا اصول ہے، جس کے تحت دونوں فریقین کو پوری سماعت کا موقع دیے بغیر کوئی حتمی یا عبوری فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے معاملہ کل تک کے لیے ملتوی کیا۔

اہم نکات

  • پشاور ہائی کورٹ نے لانگ مارچ کیس میں عبوری ریلیف دینے سے انکار کیا
  • جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے فریقین کو سنے بغیر ریلیف نہ دینے کا اصول دہرایا
  • پی ٹی آئی ایم پی اے کے وکیل نے لانگ مارچ کو حلقوں سے گزرنے کی اجازت کی استدعا کی
  • ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیا
  • اس کیس کی سماعت فی الحال کل کے لیے موخر کر دی گئی ہے۔
  • ریلیف

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

عدالت نے عبوری ریلیف کیوں نہیں دیا؟
جسٹس صاحبزادہ اسداللہ کے مطابق فریقین کو سنے بغیر ریلیف جاری نہیں کیا جا سکتا۔

پی ٹی آئی ایم پی اے کے وکیل کا مطالبہ کیا تھا؟
یہ کہ لانگ مارچ کو درخواست گزاروں کے حلقوں سے گزرنے دیا جائے اور رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا مؤقف کیا تھا؟
ان کے مطابق درخواست قابلِ سماعت نہیں، کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی حکم جاری کر چکی ہے۔

اگلی سماعت کب ہوگی؟
عدالت نے معاملے پر حتمی فیصلہ کل تک کے لیے اٹھا رکھا ہے۔

کیا یہ معاملہ کسی اور عدالت میں بھی زیرِ سماعت ہے؟
جی ہاں، رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے متعلق پہلے ہی حکم دے چکی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے بیان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پہلے سے موجود حکم کا حوالہ دیا گیا، تاہم اس رپورٹ میں اس حکم کی مکمل تفصیلات شامل نہیں۔ دو مختلف ہائی کورٹس میں ملتے جلتے معاملات کا زیرِ سماعت ہونا قانونی طور پر ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے لانگ مارچ سے متعلق درخواست پر ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔