خالد چوغطہ، ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر نامہ نگار برائے
اسکینڈے نیوین نیوز ایجنسی
پنجاب میں گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال فی الحال ٹل گئی ہے، کیونکہ وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان کے درمیان مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں۔ PRO شیراز علی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ ویڈیو بیان جاری کیا جس میں ٹرانسپورٹرز کے مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اس یقین دہانی کے بعد، ملک گیر ہڑتال کی کال کو 15 اکتوبر تک موخر کر دیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت اگست میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کا تسلسل بتائی جا رہی ہے، جس میں دس وہیلر گاڑیوں کے 35 ٹن وزن کی اجازت سے متعلق معاملات زیر بحث آئے تھے۔
گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال موخر ہونے کی وجوہات
بیان کے مطابق، وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب نے اگست میں طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔ ان کے بقول، دس وہیلر گاڑیوں کو 35 ٹن وزن کی اجازت پر پنجاب بھر میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاکہ ٹرانسپورٹرز کو کسی بھی غیر ضروری رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔
وزیر ٹرانسپورٹ کے بقول، آر ٹی سیکریٹری، پی ٹی سیکریٹری، فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور پٹرولنگ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹرانسپورٹرز کو بلاجواز ہراساں یا تنگ نہ کریں۔
روکی گئی گاڑیوں کی رہائی اور معاوضے کا وعدہ
بلال اکبر خان کے بیان کے مطابق، احتجاج کے دوران پنجاب بھر میں روکی گئی تمام لوڈ گاڑیاں فوری طور پر ریلیز کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ روکی گئی گاڑیوں کے مالکان کو ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق، ڈائریکٹ HTV ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق سابقہ وعدے پر بھی جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔
ملک شہزاد اعوان کا ردعمل
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے، بیان کے مطابق، وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب کی مثبت پیشرفت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی یقین دہانیوں پر اعتماد کرتے ہوئے 15 اکتوبر تک کی مہلت دی گئی ہے، اور امید ظاہر کی کہ حکومت تمام وعدوں پر مکمل عملدرآمد کرے گی۔
ملک شہزاد اعوان کے مطابق، ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لیے پنجاب حکومت کے ساتھ رابطہ اور مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔ بیان میں بتایا گیا کہ مذاکرات میں نثار حسین جعفری، بختاور خان اور پیر مشتاق بھی موجود تھے۔
اہم نکات
- وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان اور ملک شہزاد اعوان کے درمیان مذاکرات کامیاب
- گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال 15 اکتوبر تک موخر
- دس وہیلر گاڑیوں کو 35 ٹن وزن کی اجازت پر عملدرآمد کی ہدایت
- روکی گئی گاڑیاں فوری ریلیز اور نقصان کے معاوضے کی یقین دہانی
- ڈائریکٹ HTV ڈرائیونگ لائسنس وعدے پر جلد عملدرآمد کا بیان
اکثر پوچھے گئے سوالات
گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال کیوں موخر کی گئی؟
PRO کے بیان کے مطابق، وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال 15 اکتوبر تک موخر کی گئی۔
نئی ڈیڈ لائن کیا ہے؟
ملک شہزاد اعوان کے مطابق، پنجاب حکومت کو 15 اکتوبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔
35 ٹن وزن کی اجازت کا کیا مطلب ہے؟
یہ دس وہیلر گاڑیوں کے لیے مقررہ زیادہ سے زیادہ وزن کی حد ہے، جسے پنجاب بھر میں یکساں طور پر لاگو کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
کیا روکی گئی گاڑیاں رہا کی جائیں گی؟
وزیر ٹرانسپورٹ کے بیان کے مطابق، احتجاج کے دوران روکی گئی تمام گاڑیاں فوری ریلیز کی جائیں گی اور نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔
مذاکرات میں اور کون شامل تھا؟
بیان کے مطابق، نثار حسین جعفری، بختاور خان اور پیر مشتاق بھی مذاکرات میں موجود تھے۔
یہ معاملہ ابھی ترقی پذیر کیوں ہے
چونکہ ڈیڈ لائن 15 اکتوبر تک مقرر کی گئی ہے، اس لیے یہ معاملہ ابھی حتمی حل تک نہیں پہنچا۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومتی اداروں کی جانب سے عملدرآمد واقعی ہوتا ہے یا نہیں، جس پر مزید اپڈیٹس دی جائیں گی۔
گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال 15 اکتوبر تک موخر، حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات جاری