بذریعہ شمائلہ اسلم
، بیورو چیف پاکستان برائے اسکینڈینیوین نیوز ایجنسی
پاک فضائیہ کے جے ایف-17 طیاروں کو سعودی عرب میں حوثی حملے سے نقصان پہنچنے کی خبروں کو پاکستان نے اتوار کے روز “بالکل جھوٹ” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق، یہ دعوے بھارتی پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔
یہ ردعمل ان سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے الظہران میں واقع شاہ عبدالعزیز ایئر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس سے وہاں تعینات تین پاکستانی جے ایف-17 طیارے متاثر ہوئے۔
پاکستانی وزارت کا مؤقف
پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک بیان جاری کیا۔ وزارت کے مطابق، “کسی بھی مستند یا سرکاری ذریعے نے پاک فضائیہ کے جے ایف-17 طیاروں کے کسی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔” وزارت نے مزید کہا کہ طیاروں کو مبینہ نقصان اور انہیں منتقل کیے جانے سے متعلق خبریں “بھارت کا صریح پروپیگنڈا” ہیں۔
یہ الزامات ابھی تک کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق شدہ نہیں ہیں، اور نہ ہی اصل دعویٰ کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شناخت باضابطہ طور پر واضح کی گئی ہے۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی تعاون کا پس منظر
پاک فضائیہ جے ایف-17 طیاروں کی سعودی عرب میں موجودگی گذشتہ سال ستمبر میں طے پانے والے دوطرفہ مشترکہ دفاعی تعاون معاہدے سے جڑی ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے سعودی عرب میں فوجی اہلکار اور سامانِ حرب تعینات کر رکھا ہے۔
یہ تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی جب سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثی گروہ کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، تاہم اس مخصوص واقعے کی تفصیلات آزادانہ طور پر تصدیق طلب ہیں۔
اہم حقائق
- پاکستان نے سعودی عرب میں جے ایف-17 طیاروں کو نقصان کی خبروں کو “بالکل جھوٹ” قرار دیا
- دعویٰ تھا کہ حوثی میزائلوں نے الظہران میں شاہ عبدالعزیز ایئر بیس کو نشانہ بنایا
- پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے ان دعووں کو بھارتی پروپیگنڈا سے منسوب کیا
- پاکستان-سعودی عرب دفاعی تعاون معاہدہ گذشتہ سال ستمبر میں طے پایا تھا
- بھارت کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری ردعمل موصول نہیں ہوا
- پاک فضائیہ
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا پاک فضائیہ کے جے ایف-17 طیاروں کو واقعی نقصان پہنچا؟
پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق، کسی مستند یا سرکاری ذریعے نے ایسے کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
یہ دعویٰ کہاں سے شروع ہوا؟
پاکستان کے مطابق، یہ دعوے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پھیلائے جنہیں پاکستانی وزارت نے بھارتی پروپیگنڈا سے جوڑا ہے۔
جے ایف-17 طیارے سعودی عرب میں کیوں تعینات ہیں؟
یہ طیارے گذشتہ سال ستمبر میں طے پانے والے پاکستان-سعودی عرب مشترکہ دفاعی تعاون معاہدے کے تحت تعینات کیے گئے تھے۔
کیا بھارت نے ان الزامات پر ردعمل دیا؟
نہیں، نئی دہلی کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
شاہ عبدالعزیز ایئر بیس کہاں واقع ہے؟
یہ ایئر بیس سعودی عرب کے شہر الظہران میں واقع ہے۔
بھارت کا ردعمل
نئی دہلی کی جانب سے پاکستانی وزارت کے اس بیان یا اس میں لگائے گئے الزامات پر تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ چونکہ کوئی بھارتی حکام یا ذریعہ اس دعوے کی تصدیق یا تردید کے لیے سامنے نہیں آیا، اس لیے یہ معاملہ فی الحال یک طرفہ پاکستانی مؤقف تک محدود ہے۔
پاکستان ایئر فورس (پاک فضائیہ)