google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

لاہور ہائیکورٹ: ججز کی گاڑیوں پر نئی پابندیاں عائد

ایس این این نیوز اردو

September 13, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

از اسامہ زاہد

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، صوبے بھر کے ججز کو دی گئی گاڑیوں پر گرین نمبر پلیٹ، نیلی لائٹ اور عدلیہ کا مونوگرام استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ہدایات فوری طور پر نافذ العمل قرار دی گئی ہیں۔

پنجاب بھر کے ایڈیشنل سیشن ججز نے اپنے اپنے اضلاع کے ماتحت ججز کو ان نئی ہدایات سے آگاہ کر دیا ہے۔ سیشن جج لاہور کی جانب سے لاہور کے ایڈیشنل سیشن ججز اور سِول ججز کے نام باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔

نئی ہدایات کیا کہتی ہیں

نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں پر گرین پلیٹ جو عام طور پر سرکاری یا اعلیٰ عہدیداروں کی گاڑیوں کی پہچان ہوتی ہے کا استعمال اب ججز کے لیے ممنوع ہو گا۔ اسی طرح نیلی لائٹ، جو عموماً اہم شخصیات کی گاڑیوں پر حفاظتی یا شناختی مقصد کے لیے نصب کی جاتی ہے، اور عدلیہ کا مونوگرام بھی گاڑیوں سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام گاڑیوں کے غیر ضروری سرکاری نشانات کے استعمال کو محدود کرنے کے تناظر میں کیا گیا۔ تاہم اس فیصلے کے پیچھے کی مکمل وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان تاحال دستیاب نہیں۔

عمل درآمد نہ کرنے پر کارروائی کا انتباہ

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی جج کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ شق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتظامیہ اس فیصلے کے نفاذ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کارروائی کی نوعیت کیا ہو گی، اور کیا اس کا اطلاق صرف انتباہ تک محدود رہے گا یا سخت تادیبی اقدامات بھی شامل ہوں گے۔

اہم نکات

  • گرین پلیٹ، نیلی لائٹ اور عدلیہ کے مونوگرام کے استعمال پر پابندی
  • پنجاب بھر کے ایڈیشنل سیشن ججز نے اضلاع کے ججز کو مطلع کر دیا
  • سیشن جج لاہور ہائیکورٹ نے لاہور کے ججز کے نام نوٹیفکیشن جاری کیا
  • عمل درآمد نہ کرنے پر متعلقہ جج کے خلاف کارروائی کی جائے گی
  • گاڑیوں کی مینٹیننس اب سرکاری طور پر فراہم نہیں کی جائے گی، صرف مقررہ پیٹرول الاؤنس ملے گا
  • لاہور ہائیکورٹ

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

یہ نوٹیفکیشن کس نے جاری کیا؟
رپورٹ کے مطابق یہ ہدایات لاہور ہائیکورٹ کی سطح پر جاری ہوئیں، جن پر عملدرآمد کے لیے سیشن جج لاہور ہائیکورٹ نے مقامی نوٹیفکیشن بھی جاری کیا۔

کن نشانات کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے؟
گرین نمبر پلیٹ، نیلی لائٹ، اور عدلیہ کا مونوگرام — یہ تینوں نشانات اب ججز کی سرکاری گاڑیوں پر استعمال نہیں ہو سکیں گے۔

اگر کوئی جج ہدایات پر عمل نہ کرے تو کیا ہو گا؟
نوٹیفکیشن کے مطابق ایسی صورت میں متعلقہ جج کے خلاف کارروائی کی جائے گی، تاہم کارروائی کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔

کیا گاڑیوں کا خرچہ اب بھی سرکار برداشت کرے گی؟
نہیں، رپورٹ کے مطابق مینٹیننس کا خرچہ اب ججز خود برداشت کریں گے، صرف مقررہ پیٹرول الاؤنس ملے گا۔

کیا یہ فیصلہ صرف لاہور تک محدود ہے؟
نہیں، پنجاب بھر کے اضلاع کے ججز کو ان ہدایات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

مالی اخراجات ججز خود برداشت کریں گے

رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی سرکاری طور پر مینٹیننس اب فراہم نہیں کی جائے گی، اور تمام ججز کو گاڑیوں کے اخراجات خود اٹھانے ہوں گے۔ صرف وہی پیٹرول الاؤنس دیا جائے گا جو تنخواہ کے ساتھ پہلے سے مقرر ہے، اس سے زائد کوئی مالی سہولت میسر نہیں ہو گی۔

یہ تبدیلی ججز کے لیے ایک اضافی مالی ذمہ داری کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان اضلاع میں جہاں سفری فاصلے زیادہ ہوں۔

ججز کی گاڑیوں پر پابندی