از اسامہ زاہد
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے صوبوں کی ممکنہ تقسیم پر فوجی قیادت اور وفاقی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ لاہور میں ایک خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ماضی میں چار صوبوں کو “ون یونٹ” کے تحت ایک صوبے میں ضم کیا گیا، اور اب انہی صوبوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کے مطابق، دونوں فیصلے — یعنی صوبوں کا ادغام اور اب ان کی ممکنہ تقسیم — فوجی قیادت کی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسے فیصلوں کے پیچھے قومی مفاد نہیں بلکہ ادارہ جاتی مفادات کارفرما ہیں۔
صوبوں کی تقسیم پر اعتراض کیا ہے؟
JUI-F سربراہ نے واضح کیا کہ وہ اصولی طور پر نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کے مخالف نہیں، اور کہا کہ ایسی تقسیمیں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہوتی رہی ہیں۔ تاہم ان کا مؤقف تھا کہ وقت اور حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور کوئی بھی فیصلہ عوام پر یکطرفہ طور پر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مثال دی، اور دعویٰ کیا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس انضمام کی حمایت پر زور دیا تھا۔ مولانا کے اپنے بیان کے مطابق، ایک امریکی افسر نے بھی اس معاملے پر ان سے رابطہ کیا تھا — تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔
فضل الرحمٰن کا این ایف سی ایوارڈ اور معدنی وسائل پر مؤقف
اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اپنے معدنی وسائل کے مالک ہیں، اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کا حصہ ستاون فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق، صوبوں کی مزید تقسیم کے ذریعے وسائل کی تقسیم کے فیصلوں کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ دعوے مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، اور حکومت یا فوجی قیادت کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی جواب موجود نہیں۔
اہم نکات
- مولانا فضل الرحمٰن نے لاہور خطاب میں صوبوں کی ممکنہ تقسیم پر فوجی قیادت پر تنقید کی
- انہوں نے ماضی کی “ون یونٹ” پالیسی کا حوالہ دیا
- این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ ستاون فیصد ہونے کا دعویٰ کیا
- فاٹا انضمام کے فیصلے پر سوالات اٹھائے
- پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون پر خاموشی کا الزام لگایا
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مولانا فضل الرحمٰن کون ہیں؟
وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پاکستان کے معروف سیاسی و مذہبی رہنما ہیں۔
“ون یونٹ” پالیسی کیا تھی؟
یہ 1955 میں نافذ کی گئی ایک انتظامی پالیسی تھی جس کے تحت مغربی پاکستان کے چار صوبوں کو ملا کر ایک ہی صوبہ بنا دیا گیا تھا۔
این ایف سی ایوارڈ کیا ہے؟
یہ ایک آئینی طریقہ کار ہے جس کے تحت وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان قومی محصولات کی تقسیم کا فیصلہ ہوتا ہے۔
کیا حکومت یا فوج نے ان الزامات کا جواب دیا؟
دستیاب معلومات کے مطابق، اس رپورٹ کی تیاری تک حکومت یا فوجی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کب ہوا؟
یہ انضمام 2018 میں آئینی ترمیم کے ذریعے مکمل ہوا تھا۔
سیاسی جماعتوں پر تنقید
مولانا نے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی صوبائی خودمختاری کی بات صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے، جبکہ مسلم لیگ نون، جو وفاق میں برسراقتدار ہے، اس معاملے پر خاموش ہے۔ انہوں نے اسلام آباد ٹیریٹری سے متعلق دو کمیٹیوں کی رپورٹس میں تضاد کا بھی ذکر کیا، تاہم کمیٹیوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
فضل الرحمٰن صوبوں کی تقسیم