شمائلہ اسلم
ایس این این اردو
سندھ میں زچگی کے دوران بڑھتی ہوئی اموات کو روکنے کے لیے صوبائی وزیر صحت نے تیسری بار سیزیرین آپریشن کروانے والی خواتین کو مستقل خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے کا مشورہ دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
وزیر صحت کا بیان کیا تھا؟
سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے چوتھی بین الاقوامی فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو خواتین تیسری بار سیزیرین آپریشن کے لیے آتی ہیں، انہیں ٹیوبل لائیگیشن (نالیاں بند کرنے کا مستقل طریقہ) کے بارے میں مشورہ اور آگاہی دی جانی چاہیے۔ یہ تقریب جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہ امراضِ نسواں نے مشترکہ طور پر منعقد کی۔
ڈاکٹر پیچوہو کے مطابق سندھ میں بار بار سیزیرین آپریشن کی وجہ سے زچگی کے دوران اموات کی شرح بڑھ رہی ہے، اور حکومت اس مسئلے پر کام کر رہی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا یہ مانع حمل آپریشن لازمی ہوگا؟
جواب: بیان کے مطابق یہ ایک مشاورتی تجویز ہے، جس میں خواتین کو تیسرے سیزیرین کے موقع پر مستقل مانع حمل طریقے سے آگاہ کیا جائے گا۔
سوال: یہ تجویز کہاں پیش کی گئی؟
جواب: چوتھی بین الاقوامی فیملی پلاننگ سمٹ میں، جو کراچی میں منعقد ہوئی۔
سوال: اس اقدام کا مقصد کیا ہے؟
جواب: سندھ میں سیزیرین آپریشن سے جڑی زچگی کی اموات میں کمی لانا۔
سوال: کیا مردوں کے لیے بھی کوئی اقدامات ہو رہے ہیں؟
جواب: جی ہاں، ویسیکٹومی کو بھی آبادی کے کنٹرول کے مؤثر ذریعے کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔
سندھ زچگی اموات کی صورتحال
سمٹ کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر نگہت شاہ نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ تقریباً 60 لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ملک میں مانع حمل ذرائع کے استعمال کی شرح صرف 34 فیصد ہے اور خاندانی منصوبہ بندی کی 17.8 فیصد ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔
جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن نے مردوں کی خاندانی منصوبہ بندی میں شرکت پر زور دیا اور بتایا کہ سندھ میں ویسیکٹومی (مردانہ نس بندی) کے کیسز 2021 میں صرف 24 تھے جو 2025 میں بڑھ کر 4000 سے زائد ہو گئے۔
اہم نکات
- تیسرے سیزیرین آپریشن پر خواتین کو ٹیوبل لائیگیشن کا مشورہ دینے کی تجویز
- مقصد: زچگی کے دوران اموات میں کمی
- پاکستان میں آبادی سالانہ تقریباً 60 لاکھ بڑھ رہی ہے
- مانع حمل ذرائع استعمال کرنے کی شرح 34 فیصد
- سندھ میں مردانہ نس بندی کے کیسز میں نمایاں اضافہ (2021: 24 → 2025: 4000+)
سندھ میں آبادی کنٹرول اور خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات