حماد کاہلوں
ایس این این نیوز
موٹروے ریسٹورنٹس ریٹ عام شہری منڈی کے مقابلے میں تقریباً دگنے ہونے کی شکایات ایک بار پھر زیر بحث آ گئی ہیں۔ مسافروں اور مبصرین کے مطابق موٹروے پر واقع دکانوں اور کھانے پینے کی جگہوں پر قیمتیں غیر معمولی طور پر زیادہ وصول کی جاتی ہیں، جبکہ اس معاملے پر متعلقہ سرکاری انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح کارروائی نظر نہیں آتی۔
یہ شکایت نئی نہیں، لیکن سفر کرنے والوں میں اس پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ لمبے سفر کے دوران متبادل کے بغیر انہیں انہی جگہوں سے کھانا یا اشیاء خریدنی پڑتی ہیں۔
قیمتیں کون طے کرتا ہے؟
مبصرین کے مطابق دکانوں پر کام کرنے والا عملہ خود قیمتیں مقرر نہیں کرتا۔
ان کے بقول موٹروے ریسٹورنٹس ریٹ لسٹ مالکان کی جانب سے پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے، اور ملازمین صرف اسی مقررہ نرخ پر فروخت کے پابند ہوتے ہیں۔
اس لیے راست ذمہ داری موٹروے ریسٹورنٹس کاؤنٹر پر موجود عملے کے بجائے کاروبار چلانے والے مالکان اور انہیں اجازت دینے والے اداروں پر آتی ہے، ایسا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے۔ تاہم اس دعوے کی باضابطہ سرکاری تصدیق تاحال دستیاب نہیں۔
سرکاری انتظامیہ کا کردار خاموشی پر سوالات
یہ معاملہ باخبر ذرائع کی نظر میں متعلقہ حکام تک پہلے سے پہنچ چکا ہے، مگر عملی طور پر کوئی قابلِ ذکر قدم اٹھائے جانے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ نہ تو کسی سرکاری محکمے کی طرف سے رسمی موقف سامنے آیا ہے، اور نہ ہی نرخوں کے حوالے سے کوئی تازہ ہدایت نامہ یا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ کی تیاری تک نہ کسی متعلقہ محکمے اور نہ ہی موٹروے پولیس کی جانب سے کوئی باضابطہ تبصرہ دستیاب ہو سکا۔ حتمی وضاحت کے لیے ذمہ دار ادارے سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)
سوال: کیا موٹروے پر قیمتوں کی کوئی سرکاری حد مقرر ہے؟
جواب: اس رپورٹ کی تیاری تک اس سوال کا واضح، تصدیق شدہ جواب دستیاب نہیں؛ متعلقہ ادارے سے تصدیق درکار ہے۔
سوال: قیمتیں کون طے کرتا ہے؟
جواب: مبصرین کے مطابق قیمتیں کاروبار کے مالکان طے کرتے ہیں، ملازمین صرف اسی ریٹ پر فروخت کے پابند ہوتے ہیں۔
سوال: کیا اس شکایت پر کوئی سرکاری تحقیقات ہوئی ہیں؟
جواب: تاحال اس نوعیت کی کسی باضابطہ تحقیقات کی تصدیق شدہ اطلاع دستیاب نہیں۔
سوال: مسافر شکایت کہاں درج کروا سکتے ہیں؟
جواب: متعلقہ صوبائی یا وفاقی محکمہ برائے موٹروے/شاہراہیں سے رجوع کیا جا سکتا ہے؛ مخصوص ہیلپ لائن نمبر کی تصدیق کے بغیر یہاں دینا مناسب نہیں۔
سوال: کیا یہ مسئلہ صرف ایک مخصوص موٹروے تک محدود ہے؟
جواب: دستیاب معلومات میں کسی مخصوص موٹروے ریسٹورنٹس کا نام شامل نہیں؛ اس لیے یہ عمومی نوعیت کی شکایت کے طور پر رپورٹ کی جا رہی ہے۔
مسافروں پر اثرات
- لمبے سفر کے دوران متبادل آپشن محدود ہونے کی وجہ سے مسافر مجبوراً مہنگے داموں چیزیں خریدتے ہیں
- خاندانوں اور بار بار سفر کرنے والوں پر مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے
- شفافیت کی کمی کے باعث عوامی اعتماد متاثر ہو رہا ہے
- موٹروے ریسٹورنٹس
اہم نکات
- شکایت: موٹروے کے ریسٹورنٹس/شاپس کے نرخ عام مارکیٹ سے تقریباً دگنے
- نرخ کا تعین: کاروبار کے مالکان کی جانب سے، عملہ صرف پابند فروخت کنندہ
- سرکاری کارروائی: تاحال کوئی باضابطہ ایکشن رپورٹ نہیں ہوا
- سرکاری مؤقف: اس رپورٹ کی اشاعت تک دستیاب نہیں
- تصدیق کی حیثیت: دعوے مسافروں/مبصرین کے مشاہدے پر مبنی، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار موجود نہیں
- موٹروے ریسٹورنٹس
موٹروے سفر سے متعلق مسافروں کے مسائل