مذاکرات کے لیے برابری اور باہمی احترام لازمی شرط قرار
ایران کے صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے اپنا “بالادستی اور آمریت پسند رویہ” مسعود پیزشکیان
ترک کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق مذاکرات اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کریں۔
یہ بیان انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کے لیے اعتماد اور انصاف بنیادی شرائط ہیں۔
یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک مختلف سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مسائل پر ایک دوسرے کے مخالف موقف رکھتے ہیں
ایران کا مؤقف: بات چیت صرف برابری کی بنیاد پر ممکن ہے
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ اصولی مذاکرات کا حامی رہا ہے، لیکن ایسے کسی بھی عمل کو قبول نہیں کیا جا سکتا جس میں یک طرفہ دباؤ یا طاقت کا استعمال شامل ہو۔
ان کے مطابق اگر امریکہ اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے اور ایران کے قومی حقوق کو تسلیم کرے تو دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے راستے کھل سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ عالمی سفارتی ماحول میں طاقت کی سیاست کے بجائے برابری کی بنیاد پر تعلقات ہی دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔
مذاکراتی ٹیم کی کارکردگی کو خراجِ تحسین
اپنے بیان کے دوسرے حصے میں ایرانی صدر نے ملک کی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے اور ان کی محنت قابلِ تعریف ہے۔
انہوں نے ٹیم کے ارکان کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں ملک کے لیے مستقبل میں مثبت نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ صدر نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں شامل تمام افراد اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات کا تاریخی پس منظر
ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات تقریباً ختم ہو گئے تھے، جس کے بعد اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو گیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ مختلف عوامل نے اس کشیدگی میں اضافہ کیا، جن میں شامل ہیں:
- ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات
- امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں
- مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور عسکری کشمکش
- علاقائی اثر و رسوخ کی جدوجہد
- امریکہ
ان عوامل نے دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے اور جامع معاہدے کو مشکل بنا دیا ہے۔
موجودہ کشیدگی کی بنیادی وجوہات
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات صرف ایک مسئلے تک محدود نہیں بلکہ کئی پیچیدہ پہلوؤں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سب سے اہم درج ذیل ہیں:
1۔ جوہری پروگرام کا تنازع
ایران کے جوہری پروگرام پر طویل عرصے سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے، جسے امریکہ اور اس کے اتحادی مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔
2۔ اقتصادی پابندیاں
امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
3۔ علاقائی اثر و رسوخ
مشرق وسطیٰ میں مختلف گروہوں اور حکومتوں کی حمایت کے معاملے پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
4۔ سلامتی اور خارجہ پالیسی
خطے کی سلامتی اور عالمی پالیسیوں پر دونوں ممالک کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
سفارتی امکانات اور محدود پیش رفت
اگرچہ صورتحال پیچیدہ ہے، لیکن سفارتی سطح پر مکمل طور پر دروازے بند نہیں ہوئے۔ ماضی میں بھی ایسے اشارے ملتے رہے ہیں کہ محدود یا غیر رسمی مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔
اب تک کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ:
- بعض اوقات غیر رسمی رابطے جاری رہے ہیں
- ثالث ممالک نے کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے
- محدود نوعیت کے معاہدے زیر بحث آئے ہیں
- امریکہ
تاہم بڑے اور جامع معاہدے کے لیے دونوں فریقوں کو اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔
خطے اور عالمی سیاست پر اثرات
ایران اور امریکہ کے تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے اور عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے اثرات درج ذیل صورتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں:
- عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
- مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال
- بین الاقوامی سفارتی دباؤ
- عالمی معیشت پر بالواسطہ اثرات
- امریکہ
اسی وجہ سے یہ تنازع صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی سفارتی معاملہ بن چکا ہے۔
نتیجہ: مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی لیکن ممکن
صدر مسعود پزشکیان کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران اصولی طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اسے برابری، احترام اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر دیکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے ساتھ موجود گہری خلیج اور تاریخی اختلافات کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود ہیں۔ تاہم سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور اگر دونوں فریق اپنے مؤقف میں لچک دکھائیں تو مستقبل میں کسی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے۔
ایران کا مؤقف: بات چیت صرف برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ممکن ہے