حماد کہلون اسکینڈینیوین نیوز فن لینڈ
سفارتی کوششیں تعطل کا شکار
ایران نے مذاکرات امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کو غیر معقول قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی اس 10 نکاتی تجویز کی کئی اہم شقوں کی خلاف ورزی ہو چکی ہے جس پر ابتدائی طور پر امریکہ کی رضامندی بھی موجود تھی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید سیاسی اور سیکیورٹی کشیدگی سے گزر رہا ہے اور خطے میں مختلف محاذوں پر تنازعات جاری ہیں۔ ایران کے اس مؤقف نے ایک بار پھر سفارتی عمل کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایران کا مؤقف: مذاکرات کی بنیاد ہی کمزور ہو گئی
ایرانی مذاکرات قیادت کا کہنا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ دونوں فریق پہلے سے طے شدہ شرائط پر عمل کریں، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا نہیں ہو رہا۔
محمد باقر قالیباف کے مطابق جن نکات پر بات چیت اور معاہدے کی بنیاد رکھی گئی تھی، وہ عملی طور پر پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بنیادی وعدے ہی پورے نہیں کیے جا رہے تو مذاکرات کو سنجیدہ یا قابلِ عمل نہیں کہا جا سکتا۔
ایران کے مطابق موجودہ حالات میں مذاکرات کا آغاز کرنا “غیر معقول” اقدام ہوگا کیونکہ اعتماد کی فضا پہلے ہی مجروح ہو چکی ہے۔
10 نکاتی تجویز اور مبینہ خلاف ورزیاں
ایران مذاکرات نے جن نکات کو بنیاد بنا کر مذاکرات پر سوالات اٹھائے ہیں، ان میں تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
1. لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ پورا نہ ہونا
ایران کے مطابق خطے میں خاص طور پر لبنان میں جس جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
لبنان پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور عسکری تناؤ کا شکار ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس وعدے کی خلاف ورزی نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
اس صورتحال کو ایران مذاکراتی عمل کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ قرار دیتا ہے۔
2. ایران کی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی
ایران کا دوسرا بڑا اعتراض اس کی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔ تہران کے مطابق کچھ اقدامات ایسے ہوئے ہیں جو اس کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب کسی ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جائے تو اس کے بعد اعتماد پر مبنی سفارتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔
یہ معاملہ ایران کے لیے صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا بھی مسئلہ ہے، جسے وہ انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
3. یورینیم افزودگی کے حق پر اختلاف
ایران کا ایک دیرینہ مؤقف یہ ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق حاصل ہے۔ تاہم موجودہ تنازع میں ایران کے مطابق اس حق کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام توانائی پیدا کرنے اور سائنسی ترقی کے لیے ہے، جبکہ بعض عالمی طاقتیں اس پر سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتی ہیں۔
یہ اختلاف مذاکراتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اسی پر کئی بار مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی دباؤ
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پہلے ہی انتہائی پیچیدہ ہے۔ غزہ، لبنان اور دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی نے عالمی سفارتکاری کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ایران کے حالیہ بیان کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ آیا موجودہ سفارتی کوششیں کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکیں گی یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق جب فریقین ایک دوسرے پر معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات لگائیں تو اعتماد کی بحالی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔
پس منظر: ایران اور مغرب کے درمیان طویل تنازع
ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تنازع کئی دہائیوں پر محیط ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس میں مزید شدت آئی ہے۔
اہم وجوہات میں شامل ہیں:
- ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی خدشات
- خطے میں پراکسی تنازعات اور اثر و رسوخ کی جنگ
- امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی کمی
- علاقائی تنازعات جیسے لبنان اور شام کی صورتحال
- مذاکرات
یہ تمام عوامل موجودہ مذاکراتی ماحول کو انتہائی حساس بنا دیتے ہیں۔
تجزیہ: مذاکرات کیوں بار بار ناکام ہو رہے ہیں؟
سفارتی ماہرین کے مطابق موجودہ تعطل کی بنیادی وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔ ایک طرف ایران یہ سمجھتا ہے کہ اس کے وعدوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام کو ایک سیکیورٹی خطرہ سمجھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:
- اعتماد کے بغیر کوئی بھی معاہدہ دیرپا نہیں ہو سکتا
- خطے کی صورتحال مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے
- ہر فریق اپنی سیکیورٹی ترجیحات کو اولین رکھتا ہے
- مذاکرات
یہی اختلافات بار بار مذاکرات کو ناکام یا غیر مؤثر بنا دیتے ہیں۔
عالمی برادری کا کردار اور ممکنہ حل
اس صورتحال میں عالمی اداروں اور بڑی طاقتوں کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے ادارے ثالثی کے ذریعے فریقین کو ایک میز پر لا سکتے ہیں۔
تاہم موجودہ حالات میں فوری پیش رفت کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں کیونکہ اعتماد کی بحالی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔
نتیجہ: سفارتی مستقبل غیر یقینی
ایران کی جانب سے مذاکرات کو غیر معقول قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ سفارتی عمل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جب تک فریقین ایک دوسرے پر اعتماد بحال نہیں کرتے اور معاہدوں پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک کسی بڑے سفارتی حل کا امکان محدود رہے گا۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام فریقین تحمل، مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دیں تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف مذاکرات پر بیان دیتے ہوئے، خطے میں سیاسی کشیدگی کا منظر۔