عابدہ کاہلوں
ایس این این نیوز
پاکستان میں مہنگائی نے ریکارڈ سطحیں عبور کر لی ہیں، بنیادی خوراک اور گھریلو ضروریات کی قیمتیں بے حد بڑھ گئی ہیں، جس سے عام شہریوں پر شدید دباؤ پڑ گیا ہے
تازہ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق گوشت، دودھ، سبزیاں، پھل اور سلنڈر گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جسے ماہرین “خوراک کا بحران” قرار دے رہے ہیں۔
گوشت کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر
گزشتہ چند مہینوں کے دوران گوشت کی قیمتیں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں:
- مرغی: 780 روپے فی کلو
- چھوٹا گوشت: 2,700 روپے فی کلو
- بڑا گوشت: 1,700 روپے فی کلو
- مہنگائی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نرخ عام گھرانوں کے لیے پروٹین والے کھانے کی رسائی تقریباً ناممکن کر رہے ہیں۔
دودھ اور ڈیری مصنوعات مہنگی
روزمرہ غذائی ضروریات میں شامل ڈیری مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں:
- تازہ کھلا دودھ: 250 روپے فی لیٹر (پچھلے نرخ سے 20 روپے زیادہ)
- دہی: 260 روپے فی کلو
- مہنگائی
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے بچوں اور بزرگوں کی غذائیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
آٹا، دالیں اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں
بنیادی اجناس اور دالیں بھی مہنگائی کی لپیٹ میں ہیں:
- باسمتی چاول: 380 روپے فی کلو
- دال چنا: 300 روپے فی کلو
- دال ماش: 480 روپے فی کلو
- دال مسور: 340 روپے فی کلو
- سفید چنے: 380 روپے فی کلو
- چینی: 180 روپے فی کلو
- شکر: 280 روپے فی کلو
- گڑ: 260 روپے فی کلو
- سرخ مرچ: 800 روپے فی کلو
- اعلیٰ کوالٹی گھی: 600 روپے فی کلو
- مہنگائی
ماہرین کے مطابق سپلائی چین میں خلل، درآمدی لاگت میں اضافہ اور ملکی پیداوار پر مہنگائی کے دباؤ نے اس اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سبزیاں اور پھل بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور
موسمی سبزیاں اور پھل بھی اب مہنگے ہو چکے ہیں:
- پیاز: 120 روپے فی کلو
- ٹماٹر: 110 روپے فی کلو
- آلو: 40 روپے فی کلو
- مٹر: 150 روپے فی کلو
- سبز مرچ: 120 روپے فی کلو
- بھنڈی: 300 روپے فی کلو
- کدو: 120 روپے فی کلو
- ٹینڈا: 140 روپے فی کلو
- ادرک: 500 روپے فی کلو
- لہسن (چائنا): 700 روپے فی کلو
- دیسی لہسن: 200 روپے فی کلو
- تربوز: 120 روپے فی کلو
- مہنگائی
پھلوں کی قیمتیں بھی عام شہری کے لیے مشکل بنا دی گئی ہیں:
- کیلا: 250 روپے درجن
- کینو: 500 روپے فی کلو
- امرود: 200 روپے فی کلو
- سٹرابیری: 400 روپے فی کلو
- ایرانی سیب: 500 روپے فی کلو
- سفید سیب: 400 روپے فی کلو
- خربوزہ: 200 روپے فی کلو
- مہنگائی
ایندھن کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں
کچن اور گھریلو ضروریات میں استعمال ہونے والی سلنڈر گیس کی قیمت 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس سے عام گھریلو بجٹ پر اور بھی زیادہ دباؤ پڑ رہا ہے۔
عوامی ردعمل اور اثرات
مہنگائی میں یہ اضافہ عام شہریوں کے لیے روزمرہ زندگی مشکل کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ:
- کم آمدنی والے گھرانے بنیادی غذائی اجناس تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔
- بچوں کی غذائیت متاثر ہو رہی ہے، جس سے صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
- صارفین کا رجحان سستی اور کم معیار کی خوراک کی طرف بڑھ رہا ہے۔
- مہنگائی
معاشی ماہرین کی رائے میں، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا یہ طوفان مزید شدید ہو سکتا ہے اور عام شہریوں کی زندگی پر طویل مدتی اثر ڈال سکتا ہے۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورتحال کے پیش نظر حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ چیلنج ہے کہ فوری بنیادوں پر قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے پالیسی اقدامات کریں اور کم آمدنی والے خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سبسڈی یا امدادی پروگرامز متعارف کروائیں۔
تفصیلی گوشت اور ڈیری مصنوعات کی قیمتوں کی معلومات کے لیے مارکیٹ ریٹ سیکشن