google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

اسکینڈے نیوین نیوز اردو

وزیرِ اعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ ...
وزیرِ اعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کیلئے واشنگٹن پہنچتے ہوئے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حماد کاہلوں


ایس این این نیوز

تعارف: عالمی امن کیلئے اہم سفارتی دورہ

وزیرِ اعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باضابطہ دعوت پر عالمی امن سے متعلق اعلیٰ سطحی بورڈ آف پیس

اجلاس میں شرکت کیلئے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی روابط کی عکاسی کرتا

ہے بلکہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے حوالے سے پاکستان کے فعال اور ذمہ دار کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کو مختلف خطوں میں تنازعات، انسانی بحرانوں اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

اس تناظر میں پاکستان کی شرکت کو عالمی امن کیلئے ایک مثبت اور تعمیری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت

وزیرِ اعظم کے ہمراہ ایک اہم اور بااختیار وفد بھی موجود ہے جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ

خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس اعلیٰ سطحی وفد کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اس دورے کو محض علامتی نہیں بلکہ عملی اور بامقصد سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

بورڈ آف پیس اجلاس کی اہمیت

بورڈ آف پیس اجلاس ایک بین الاقوامی فورم ہے جہاں دنیا بھر کے رہنما، پالیسی ساز اور سفارتکار عالمی امن، تنازعات کے حل

اور بین الاقوامی تعاون پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ

اور پائیدار امن کیلئے مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔

حل طاقت کے بجائے مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے۔ پاکستان کی جانب سے علاقائی امن، خصوصاً جنوبی ایشیا میں

استحکام کے حوالے سے تجاویز بھی زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔

عالمی امن میں پاکستان کا کردار

پاکستان طویل عرصے سے عالمی امن کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی

افواج کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں

مذاکرات اور ثالثی کے عمل کی حمایت کی ہے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دورہ پاکستان کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ

پاکستان امن، استحکام اور بین الاقوامی تعاون کا حامی ہے۔

پاکستان۔امریکا تعلقات کا پس منظر

پاکستان اور امریکا کے تعلقات مختلف ادوار میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان

سفارتی روابط میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ یہ دورہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک ایک بار پھر مشترکہ

مفادات، عالمی امن اور خطے کے استحکام پر تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن میں اس سطح کی ملاقاتیں پاکستان کیلئے نہ صرف سفارتی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

عوامی اور عالمی اہمیت

یہ دورہ پاکستان کیلئے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ عالمی فورمز پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہو رہا ہے۔ عالمی امن سے

متعلق مباحث میں پاکستان کی شمولیت نہ صرف بین الاقوامی اعتماد کو بڑھاتی ہے بلکہ خطے میں پاکستان کے کردار کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

عوامی سطح پر اس دورے کو ایک سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں پاکستان کے عالمی

تعلقات مزید مستحکم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

نتیجہ

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کیلئے واشنگٹن کا دورہ

پاکستان کی متحرک خارجہ پالیسی، عالمی امن کیلئے عزم اور بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی واضح مثال ہے۔ یہ دورہ نہ

صرف پاکستان کے عالمی کردار کو اجاگر کرتا ہے بلکہ آنے والے وقت میں بین الاقوامی تعاون اور امن کی نئی راہیں بھی ہموار

کر سکتا ہے۔

عالمی سفارتکاری اور پاکستان کے بین الاقوامی کردار سے متعلق مزید خبریں پڑھنے کیلئے SNN نیوز کے عالمی امور سیکشن کا مطالعہ کریں۔