پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بیرونِ ملک روزگار اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے
کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورت کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ملاقات ابوظہبی ڈائیلاگ 2026 کے موقع پر ہوئی، جس میں دونوں ممالک
کے نمائندوں نے تارکینِ وطن محنت کشوں کو درپیش چیلنجز، ہنرمندی کی تربیت اور لیبر ایکسپورٹ کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
ملاقات میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے کی، جبکہ بنگلہ دیش کی جانب
سے وزارتِ بہبودِ تارکینِ وطن و بیرونِ ملک روزگار کے مشیر ڈاکٹر آصف نذرل شریک ہوئے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا
کہ عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے انسانی وسائل کی ترقی اور جدید مہارتوں سے لیس افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے۔
Table of Contents
Toggleپاکستان اور بنگلہ دیش کا بیرونِ ملک روزگار پر مشترکہ نقطۂ نظر
اجلاس کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش نے اپنے اپنے ممالک سے بیرونِ ملک کام کرنے والے محنت کشوں کو درپیش مسائل،
روزگار کے مواقع اور قانونی و انتظامی رکاوٹوں پر کھل کر گفتگو کی۔ دونوں فریقین نے اس امر پر زور دیا کہ محفوظ، باعزت
اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ادارہ جاتی بنیادوں پر تعاون کو مضبوط بنانا موجودہ حالات میں ناگزیر ہو چکا ہے۔۔
پاکستانی وفد نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے تحت جاری ہنرمندی کی تربیت کے پروگرامز، بین
الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کورسز اور نوجوانوں کو عالمی لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کی کوششوں سے آگاہ
کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان مہارت پر مبنی افرادی قوت تیار کر کے لیبر ایکسپورٹ کے ذریعے قومی معیشت کو
مستحکم بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
ہنرمندی کی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی
بنگلہ دیشی وفد نے اپنے ملک میں قائم ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز کے عملی فریم ورک، انڈسٹری سے روابط اور ہنر مند افرادی قوت
کی تیاری کے کامیاب ماڈلز پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر آصف نذرل نے کہا کہ بنگلہ دیش نے ہنرمندی کی تربیت کو قومی ترقی کا اہم
ستون قرار دیا ہے، جس کے مثبت نتائج عالمی سطح پر سامنے آ رہے ہیں۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک دوسرے کے تجربات اور بہترین عملی طریقوں سے سیکھ
کر تربیتی نظام کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔ خاص طور پر بھرتی کے شفاف طریقۂ کار، مہارتوں کی تصدیق، اور بیرونِ ملک
جانے والے کارکنان کے حقوق کے تحفظ جیسے امور پر تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
سماجی تحفظ اور وطن واپسی کے بعد بحالی
اجلاس میں چیئرمین ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن (EOBI) پاکستان نے ادارے کے دائرۂ اختیار اور محنت کشوں کو
سماجی تحفظ فراہم کرنے میں اس کے کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ بینیفٹس اور سماجی تحفظ کے مؤثر نظام
سے محنت کشوں کا اعتماد بڑھتا ہے اور لیبر ایکسپورٹ کو فروغ ملتا ہے۔
اس کے علاوہ وطن واپس آنے والے کارکنان کی بحالی، روزگار کے نئے مواقع اور کاروباری معاونت جیسے پہلوؤں پر بھی گفتگو کی
گئی۔ دونوں فریقین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ واپسی کے بعد کارکنان کی مناسب رہنمائی اور بحالی قومی ترقی میں اہم
کردار ادا کر سکتی ہے۔
مستقبل میں تعاون کے امکانات
پاکستان اور بنگلہ دیش نے تعلیم، صحت، سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مسلسل روابط، تعمیری مکالمے
اور عملی اقدامات کے ذریعے شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔
ملاقات میں متحدہ عرب امارات میں تعینات پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی مشنز کے سینئر حکام بھی موجود تھے، جنہوں
نے تعاون کے فروغ میں سفارتی کردار کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعاون سے متعلق مزید تفصیلات اور تازہ اپڈیٹس یہاں ملاحظہ کریں۔
