حماد کاہلوں
ایس این این نیوز
Table of Contents
Toggleگاؤں تریکھا میں منعقدہ مقابلوں میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے آئی ٹیموں کی شرکت
ضلع گجرات کے نواحی گاؤں تریکھا میں ایک منظم اور باوقار بین الاضلاعی تاش ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے
مختلف اضلاع کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والی ٹیموں نے بھی شرکت کی۔ یہ ٹورنامنٹ مقامی سطح پر تفریحی کھیلوں
کے فروغ اور سماجی روابط کو مضبوط بنانے کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ مقابلے معروف سماجی شخصیت چوہدری طاہر نت کے فارم ہاؤس پر منعقد ہوئے، جو کینیڈا میں مقیم ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے
آبائی علاقے میں سماجی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد میں کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں نظم و ضبط، شفاف
مقابلہ جاتی نظام اور باہمی احترام کو خصوصی طور پر یقینی بنایا گیا۔
کینیڈا سے آئی ٹیم کو سیمی فائنل میں شکست
ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل مقابلے میں سب سے زیادہ توجہ کینیڈا سے آنے والی ٹیم پر مرکوز رہی، جس میں افتخار مجوکہ اور
چوہدری عمر حیات سندھو شامل تھے۔ اس ٹیم کو مقامی مضبوط جوڑی چوہدری اکمل سندھو اور چوہدری شاہد کا سامنا کرنا پڑا۔
میچ کے آغاز سے ہی دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، تاہم تجربہ، حکمتِ عملی اور بہتر تال میل کی بنیاد پر
مقامی ٹیم نے کینیڈین ٹیم کو شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ شائقین نے اس مقابلے کو ٹورنامنٹ کے یادگار میچز میں شمار کیا۔
فائنل میں فیصل آباد کی ٹیم کو واضح شکست
فائنل مقابلہ گجرات کی مقامی ٹیم اور فیصل آباد سے آنے والی ٹیم کے درمیان کھیلا گیا۔ فیصل آباد کی ٹیم میں قومی سطح کے
کھیلوں سے وابستہ معروف شخصیات شامل تھیں، جن میں کبڈی کے نامور کوچ عمر حیات گل اور نیشنل کوچ غلام عباس بٹ شامل تھے۔
اگرچہ فیصل آباد کی ٹیم تجربہ کار سمجھی جا رہی تھی، مگر فائنل میں چوہدری شاہد اور چوہدری اکمل سندھو نے شاندار
کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلہ یکطرفہ بنا دیا۔ فیصلہ کن لمحات میں مقامی ٹیم کی حکمت عملی اور یکسوئی نمایاں
رہی، جس کے باعث فیصل آباد کی ٹیم کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
تقریبِ انعامات اور شرکاء کی حوصلہ افزائی
ٹورنامنٹ کے اختتام پر ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں میزبان چوہدری طاہر نت نے کامیاب ٹیموں اور
نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے مقابلے نہ صرف مثبت
تفریح فراہم کرتے ہیں بلکہ مختلف علاقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اس نوعیت کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا رہے گا تاکہ نوجوانوں کو صحت مند
اور تعمیری مصروفیات میسر آ سکیں۔
علاقائی سطح پر کھیلوں کے فروغ کی مثال
مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ گاؤں تریکھا میں منعقد ہونے والا یہ ٹورنامنٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ دیہی علاقوں میں
بھی اگر مناسب انتظام اور نیک نیتی ہو تو معیاری مقابلے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ شرکاء اور تماشائیوں نے انتظامات،
شفافیت اور کھیل کے جذبے کو سراہا۔
یہ ٹورنامنٹ نہ صرف تفریحی سرگرمی کے طور پر کامیاب رہا بلکہ اس نے بین الاضلاعی ہم آہنگی، سماجی میل جول اور مثبت
مقابلے کے رجحان کو بھی فروغ دیا، جو مستقبل میں ایسے مزید ایونٹس کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگا۔
گجرات کے گاؤں تریکھا میں منعقدہ بین الاضلاعی تاش ٹورنامنٹ میں مقامی ٹیم کی شاندار فتح کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں۔
