google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب سے اپیل، عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطالبہ

ایس این این نیوز اردو

March 7, 2026

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوج اور اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) سے زور دے کر اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈالیں اور ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ملک پر عوامی کنٹرول دوبارہ قائم کرنے میں مدد کریں۔

اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایرانی عوام کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ ملک کی مستقبل کی سمت عوام اور فوج کے درمیان تعاون پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خواہشات کی حمایت کرنا ملک میں استحکام اور خودمختاری کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔

ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے لیے ٹرمپ کا پیغام

ٹرمپ نے براہِ راست ایرانی فوج اور IRGC کے ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے خبردار کیا کہ شہریوں پر دباؤ اور جبر جاری رکھنے کے دیرپا نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے فوج سے اپیل کی کہ:

  • پرامن مظاہرین پر حملہ نہ کریں
  • ایرانی شہریوں کے سیاسی اظہار رائے کے حقوق کا احترام کریں
  • عوامی مطالبات کے ساتھ کھڑے ہوں
  • پاسداران انقلاب

ٹرمپ نے کہا: “یہ پاسداران انقلاب کے لیے ایک نازک موقع ہے۔ فوج کے پاس انتخاب ہے: عوام کے ساتھ کھڑا ہونا یا ان کے خلاف۔ تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھے گی جو عوام کی مرضی کو نظر انداز کریں گے۔”

ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا پس منظر

پاسداران انقلاب میں مہینوں سے ملک گیر مظاہرے جاری ہیں، جو اقتصادی مشکلات، حکومتی پالیسیوں اور آزادیوں پر پابندیوں کی وجہ سے شروع ہوئے۔ مظاہروں کو اکثر کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور گرفتاریاں ہوئی ہیں۔

IRGC، ایران میں ایک طاقتور فوجی اور سیاسی ادارہ، اکثر مظاہروں کے دوران حکومت کی طاقت برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیان اسی ادارے کو نشانہ بناتا ہے اور ملک کی سیاسی سمت پر اس کے اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکی اور عالمی ردعمل

اگرچہ امریکی حکومت نے ٹرمپ کے بیانات پر سرکاری طور پر کوئی رائے نہیں دی، عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے پیغامات نفسیاتی اثر ڈال سکتے ہیں اور مظاہرین کو حوصلہ دے سکتے ہیں۔ یہ انسانی حقوق کے مسائل پر عالمی توجہ کی علامت بھی ہیں۔

تاہم سفارتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ براہِ راست مداخلت یا عوامی اپیل خطرناک بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایرانی قیادت اسے بیرونی دباؤ سمجھ سکتی ہے۔

ایرانی عوام کا کردار

ٹرمپ کے بیان میں عوام کی شمولیت کو بار بار اجاگر کیا گیا، جس میں شہریوں کو مرکزی کردار دینے پر زور دیا گیا۔ انہوں نے ایرانی عوام سے کہا کہ پرامن طریقے سے تنظیم کریں اور اصلاحات کے لیے آواز بلند کریں، کیونکہ دیرپا تبدیلی کے لیے عوامی حمایت اور اداروں کا تعاون ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق پاسداران انقلاب میں تاریخی طور پر سیاسی بحران کے دوران عوامی تحریک اور اندرونی طاقت کے ڈھانچوں کے ساتھ توازن برقرار رکھ کر تبدیلی کی گئی ہے۔ ٹرمپ کے پیغام میں یہ حقیقت بھی پوشیدہ طور پر تسلیم کی گئی ہے۔

خطے کی استحکام پر اثرات

پاسداران انقلاب کی سیاسی صورتحال مشرق وسطیٰ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس سے علاقائی سلامتی، توانائی کی مارکیٹس اور بین الاقوامی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ ملک میں تبدیلیاں پڑوسی ممالک، عالمی تجارت اور جوہری و سکیورٹی مذاکرات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

فوج سے عوام کے ساتھ تعاون کی اپیل کے ذریعے، ٹرمپ نے ان جغرافیائی سیاسی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان ایران کی حکومت، اصلاحات اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بحث کو بڑھا سکتا ہے۔

تاریخی تناظر

پاسداران انقلاب میں داخلی بحران کے دوران فوجی اداروں سے رہنمائی کی اپیلیں نئی نہیں ہیں۔ 2009 اور 2010 کی دہائی میں مظاہروں کے دوران بھی بین الاقوامی شخصیات نے فوجی اقدام میں احتیاط کی اپیل کی تھی اور شہری حقوق کے احترام پر زور دیا تھا۔

ٹرمپ کی اپیل اسی تاریخی سلسلے میں آتی ہے، تاہم اس کا انداز براہِ راست اور عوامی ہے، جو سابق امریکی صدور کے روایتی سفارتی طریقوں سے مختلف ہے۔

نتیجہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے لیے ایک واضح اور عوامی اپیل ہے کہ وہ ہتھیار ڈالیں اور اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ عوامی شمولیت اور اداروں کے تعاون پر زور دے کر، ٹرمپ نے اس موقع کو ایران کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیا۔

بین الاقوامی برادری کی نگاہیں اب ایران کی حکومت اور عوام کی طرف ہیں، کیونکہ ان کے ردعمل سے خطے میں استحکام اور انسانی حقوق کے مسائل پر اثرات مرتب ہوں گے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوج اور پاسداران انقلاب (IRGC) سے اپیل کی ہے کہ وہ ہتھیار ڈالیں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ مزید تفصیل کے لیے آپ دیکھ سکتے ہیں: ایران کی سیاسی صورتحال۔