حماد کاہلوں
ایس این این
Table of Contents
Toggle1962 میں فہیم اور سوزین کا حیرت انگیز جیٹ سفر
ہوائی سفر کی تاریخ کی ایک یادگار تصویر میں پی آئی اے کی لیجنڈری ایئر ہوسٹس مومی گل درانی اپنی ساتھی ایئر
ہوسٹس رشیدہ کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ یہ تصویر اگست 1962 کی ہے، جب دونوں ایئر ہوسٹس پی آئی اے کے بوئنگ 720-
040B طیارے میں لندن سے کراچی پہنچنے کے بعد جڑواں بچوں فہیم احمد اور سوزین افراح کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے تھیں۔
11 مارچ 1962 کو پیدا ہونے والے یہ جڑواں بچے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی، محض پانچ ماہ کی عمر میں بغیر والدین کے 4,500 میل
کا فضائی سفر کر کے کم عمر ترین جیٹ مسافر بن گئے۔ یہ لندن سے کراچی پہنچے اور بیس منٹ کے وقفے کے بعد راولپنڈی کے
لیے متصل پرواز پر سوار ہوئے، جس سے ان کا کل سفر مزید 700 میل بڑھ گیا۔ والدین اپنی طبی تعلیم مکمل کرنے کے لیے
انگلینڈ میں مقیم تھے، اس لیے بچوں کا اکیلے سفر ایئر ہوسٹس کی نگرانی میں ممکن ہوا۔
فہیم اور سوزین کا بے مثال سفر
جڑواں بچے دوپہر بارہ بجے لندن ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے ٹریفک کاؤنٹر پر رپورٹ ہوئے تاکہ بوئنگ 720B میں کراچی کے لیے
روانہ ہو سکیں۔ لندن سے کراچی کے دوران، یہ بچے مکمل طور پر مومی گل درانی اور رشیدہ کی دیکھ بھال میں رہے، جنہوں نے ہر لمحے ان کی حفاظت اور آرام کو یقینی بنایا۔
کراچی پہنچنے پر جڑواں بچوں کو ایئر ہوسٹسز کی ایک اور جوڑی کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے انہیں راولپنڈی تک کے دوسرے مرحلے
کے دوران محفوظ رکھا۔ یہ منفرد اور منظم سفر پی آئی اے کی کیبن کریو کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی ایک بہترین مثال تھا۔
مومی گل درانی کی شہرت اور پی آئی اے میں خدمات
مومی 1950 اور 1960 کی دہائی میں پی آئی اے کے انتہائی تربیت یافتہ کیبن کریو کے رکن تھیں۔ وہ قدآور، گوری رنگت کی
حامل اور فلمی ستاروں جیسی خوبصورتی رکھتی تھیں۔ پی آئی اے نے انہیں متعدد اشتہارات میں نمایاں کیا، جس نے انہیں اپنے
دور کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی ایئر ہوسٹس بنا دیا۔
20 مئی 1965 کو مومی پی آئی اے کے بوئنگ 720B جیٹ لائنر پر ڈیوٹی پر تھیں جب یہ طیارہ قاہرہ ایئرپورٹ کے قریب حادثے کا
شکار ہو گیا۔ اس افسوسناک سانحے میں مومی سمیت 114 افراد جاں بحق ہوئے، جو پاکستان کی ایوی ایشن تاریخ کا ایک دلخراش واقعہ تھا۔
مومی گل درانی اور ان جیسے پیشہ ور ایئر ہوسٹس نے نہ صرف مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا بلکہ پی آئی اے کی
عالمی شہرت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ فہیم اور سوزین جیسے جڑواں بچوں کا محفوظ سفر آج بھی ہوابازی کے شعبے
میں ایک یادگار داستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
مزید جانیں پی آئی اے کی لیجنڈری ایئر ہوسٹس اور تاریخی پروازوں کے بارے میں۔
