شمائلہ اسلم
بیورو چیف پاکستان
ایس این این اردو
لاہور: دریائے ستلج، راوی اور چناب میں شدید طغیانی کے باعث پنجاب کے کئی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں، جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بھاری بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے نتیجے میں تینوں دریا خطرناک حد تک بلند سطح پر پہنچ گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صوبے کے وسطی حصوں میں 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، جبکہ گوجرانوالہ ڈویژن میں 15 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد اور تقریباً 35 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا گیا ہے۔
دریاؤں کے کنارے آباد سینکڑوں دیہات زیرِ آب آگئے ہیں جبکہ کرتارپور صاحب کمپلیکس بھی متاثر ہوا جہاں سے 150 یاتریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
حکومت نے متاثرہ علاقوں میں 263 ریلیف کیمپ اور 161 میڈیکل کیمپ قائم کر دیے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں کے بڑھتے بہاؤ سے آنے والے دنوں میں جنوبی پنجاب کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
سیلابی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج کو آٹھ اضلاع میں طلب کر لیا گیا ہے، جن میں سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، سرگودھا، لاہور، قصور، اوکاڑہ اور فیصل آباد شامل ہیں۔