شمائلہ اسلم
بیورو چیف پاکستان
ایس این این نیوز اردو
(ایس این این نیوز):
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک غیر معمولی اجلاس میں ریاستی رِٹ اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے
کے لیے تاریخی فیصلے کیے گئے۔
پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو ایک انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ نفرت
انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
مزید برآں، پولیس افسران کی شہادت اور سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔
اجلاس کے اہم نکات میں شامل ہیں:
- انتہا پسند جماعت کی قیادت کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
- جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کیے جائیں گے۔
- پوسٹرز، بینرز، اور اشتہارات پر مکمل پابندی ہوگی۔
- جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند اور بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔
- لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی افغان شہریوں کے حوالے سے بھی بڑے فیصلے کیے:
- افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ۔
- غیر قانونی تارکینِ وطن کا ریئل ٹائم ڈیٹا تیار کیا جائے گا۔
- وہسِل بلوئر سسٹم متعارف کرایا جائے گا، اطلاع دینے والے کی مکمل رازداری یقینی بنائی جائے گی۔
- غیر قانونی رہائشیوں اور کاروباروں کے خلاف کومبنگ آپریشن شروع ہوگا۔
- غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کو وفاقی پالیسی کے مطابق ڈی پورٹ کیا جائے گا۔
اسلحے سے متعلق پالیسی میں بھی سخت اقدامات کیے گئے ہیں:
- غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم۔
- شہریوں کو ایک ماہ کے اندر اپنے اسلحے کی خدمت مرکز سے رجسٹریشن کرانے کی ہدایت۔
- اسلحہ فروشوں اور ڈیلرز کے سٹاک کا معائنہ کیا جائے گا۔
- پنجاب میں نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
- غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا میں اضافہ — اب 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ، یہ جرم ناقابلِ ضمانت قرار دے دیا گیا۔
پنجاب حکومت نے وفاق سے اسلحہ فیکٹریز اور مینوفیکچررز کو ریگولرائز کرنے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ صوبے میں امن و امان کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔