توانائی کے شعبے میں خدشات بڑھ گئے
پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی میں غیر متوقع کمی کا سامنا ہے کیونکہ مارچ کے مہینے کے لیے متوقع آٹھ کارگو میں سے اب تک صرف دو ہی پاکستان پہنچ سکے ہیں۔
اس صورتحال نے ملک کے توانائی کے شعبے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ پاکستان کی بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں، فیکٹریوں اور گھریلو صارفین کی بڑی تعداد گیس پر انحصار کرتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مارچ کے دوران پاکستان کو ایل این جی کے آٹھ کارگو موصول ہونے تھے جو مختلف معاہدوں اور شیڈول کے تحت آنے تھے۔
تاہم قطر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اس مہینے صرف دو کارگو فراہم کیے جائیں گے۔ اس اچانک کمی کے بعد توانائی کے ماہرین اور پالیسی ساز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس کے ملکی گیس سپلائی اور بجلی کی پیداوار پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔
قطر کی جانب سے اعلان
قطر پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی معاہدے موجود ہیں جن کے تحت ہر ماہ مخصوص تعداد میں کارگو پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچائے جاتے ہیں۔
تاہم تازہ صورتحال میں قطر نے مارچ کے لیے صرف دو کارگو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کمی کی وجوہات کے بارے میں تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، لیکن عالمی ایل این جی مارکیٹ میں طلب و رسد، شپنگ شیڈول اور پیداوار کے مختلف عوامل اکثر ایسی تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں۔
ایل این جی کارگو عام طور پر پاکستان کے ٹرمینلز پر پہنچنے کے بعد دوبارہ گیس کی شکل میں تبدیل کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں ملک کے گیس نیٹ ورک کے ذریعے مختلف شہروں اور صنعتوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
پاکستان نے 2015 میں شدید گیس بحران کے بعد ایل این جی کی درآمدات کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ ایندھن ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ایل این جی کئی اہم شعبوں کے لیے بنیادی ایندھن ہے، جن میں شامل ہیں:
- گیس سے چلنے والے بجلی گھر
- کھاد بنانے کی صنعت
- ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی شعبے
- گھریلو صارفین کی گیس ضروریات
- پاکستان
ملک میں مقامی گیس کے ذخائر بتدریج کم ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے درآمدی ایل این جی پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بجلی کی پیداوار پر ممکنہ اثرات
ایل این جی کی سپلائی میں کمی کا سب سے بڑا اثر بجلی کی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان میں کئی پاور پلانٹس گیس یا ایل این جی پر چلتے ہیں۔ اگر گیس کی دستیابی کم ہو جاتی ہے تو ان پاور پلانٹس کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
ایسی صورتحال میں حکومت کو بجلی پیدا کرنے کے لیے متبادل ایندھن جیسے فرنس آئل یا کوئلہ استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم یہ ایندھن نسبتاً مہنگے ہوتے ہیں جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہ راست گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں پر پڑ سکتا ہے۔
صنعتی شعبے کی تشویش
پاکستان کا صنعتی شعبہ بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ٹیکسٹائل، کیمیکل اور کھاد بنانے والی صنعتیں گیس کی مسلسل فراہمی پر انحصار کرتی ہیں۔
ماضی میں جب گیس کی قلت پیدا ہوئی تو کئی فیکٹریوں کو پیداوار کم کرنا پڑی یا عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ اس طرح کے مسائل نہ صرف صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ برآمدات اور ملکی معیشت پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
کاروباری تنظیمیں بارہا حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ صنعتی شعبے کے لیے گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
عالمی ایل این جی مارکیٹ کی صورتحال
حالیہ برسوں میں عالمی ایل این جی مارکیٹ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد یورپی ممالک نے بھی ایل این جی کی درآمدات میں اضافہ کیا تاکہ وہ پائپ لائن گیس کا متبادل حاصل کر سکیں۔
اس بڑھتی ہوئی طلب کے باعث عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں اور دستیابی میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک، جو درآمدی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، اکثر عالمی مارکیٹ کی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال سے متاثر ہوتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے صورتحال کا جائزہ
پاکستانی حکام اس وقت ایل این جی سپلائی میں کمی کے مسئلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور ممکنہ متبادل اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ان اقدامات میں شامل ہو سکتے ہیں:
- اضافی ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی کوشش
- گیس کی تقسیم کے نظام میں عارضی تبدیلیاں
- توانائی کی طلب کو بہتر انداز میں منظم کرنا
- پاکستان
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں پاکستان کو توانائی کے متبادل ذرائع جیسے قابل تجدید توانائی، شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔
توانائی کے شعبے کے لیے بڑا چیلنج
ایل این جی کی سپلائی میں یہ کمی پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اور چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ملک پہلے ہی بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب، درآمدی اخراجات اور کم ہوتے مقامی گیس ذخائر جیسے مسائل سے دوچار ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں توانائی کے بحران سے بچنے کے لیے پاکستان کو اپنی توانائی پالیسی میں تنوع لانا ہوگا، درآمدات کے ساتھ ساتھ مقامی وسائل اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو بھی فروغ دینا ہوگا۔
فی الحال حکام کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ گیس کی فراہمی میں ممکنہ کمی کے اثرات کو کم سے کم رکھا جائے تاکہ بجلی کی پیداوار، صنعتوں اور عام صارفین کو بڑے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پاکستان کی توانائی پالیسی اور ایل این جی درآمدات