رفعت کوثر
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!ایس این این نیوز اردو
لاہور (ایس این این اردو) – حالیہ سیلاب کے بعد بھارت کی جانب سے آنے والے پانی کے ساتھ خطرناک اور زہریلے سانپ پاکستان کے مختلف دیہات میں داخل ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ سانپ ہماچل پردیش اور مادھوپور کے راستے فیروزپور، دریائے راوی اور دریائے توی کے ذریعے سیلابی پانی کے ساتھ پاکستان میں پہنچے ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک ناجا کوبرا اور سنگچور شامل ہیں جو رات کے وقت زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں۔
محکمہ صحت پنجاب نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر اینٹی وینم ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔ عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ سانپ کے کاٹنے کی صورت میں مریض کو فوراً قریبی اسپتال یا ریسکیو 1122 پر منتقل کریں، کسی حکیم یا غیر مستند علاج پر انحصار نہ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سانپ نہایت خطرناک ہیں اور ایک ہی کاٹنے میں مہلک زہر جسم میں منتقل کر سکتے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رات کے وقت ننگے پاؤں گھروں سے باہر نہ نکلیں اور خاص طور پر سیلابی پانی میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔