تحریر: اسامہ زاہد
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!ایس این این اردو
وفا انسان سے یا حیوان سے؟
وفا انسان کا خاصہ ہے، اسے انسانوں تک ہی رہنے دو۔
کیسے ممکن ہے کہ کوئی جانور ہو اور حیوانیت سے عاری بھی؟
حال ہی میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ ایک عورت جس نے برسوں ایک شارک کے بچے کی پرورش کی، اسے ٹریننگ دی اور پول میں تیراکی کے دوران فن کا مظاہرہ کرنا سکھایا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ “جانور وفادار ہوتے ہیں، وہ احساس کی زبان سمجھتے ہیں”۔ اسے اپنی تربیت پر فخر تھا، اور یقین بھی — کیونکہ اس نے اپنی عمر اس جانور پر لگا دی تھی۔
مگر ایک دن انجام نہایت دردناک ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اس دن شارک کا رویہ معمول سے مختلف تھا۔ انسٹرکٹر نے سمجھا شاید یہ وقتی غصہ ہے اور جلد ہی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اچانک، شارک نے حملہ کر دیا۔ پول کا صاف شفاف پانی آہستہ آہستہ سرخ ہونے لگا۔ چند لمحوں میں وہ عورت، جو اس شارک کو اشاروں پر نچاتی تھی اور اسے وفا کی علامت سمجھتی تھی، ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی — نہ کوئی باقیات، نہ کوئی نشان۔
ہمارے جنون کو حد سے تم گزرتے دیکھنا
جسم و جاں ہمارا خود پہ فدا کرنا دیکھنا
کہتے ہیں حادثے کے بعد کئی دن تک وہ شارک پانی سے باہر آتی، جیسے کسی کی متلاشی ہو، کسی کے آنے یا اشارے کی منتظر۔ مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ شاید اسے اندازہ بھی نہ ہو کہ اسی نے اپنی محسنہ کو خود نگل لیا ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اعتبار کریں، مگر ایک حد تک۔ ہر چیز اور ہر شخص پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ شارک تو خیر جانور تھی، مگر انسانوں پر بھی اعتماد اتنا ہی کریں جتنا وہ مستحق ہوں۔ اپنی ذات کا ایک گوشہ ہمیشہ اپنے لیے محفوظ رکھیں۔ مکمل انحصار مت کریں، کیونکہ ماحول کا اثر کب کسی کو اس شارک کی طرح بنا دے، ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔
وہ عورت خوش قسمت تھی کہ وہیں مر گئی۔ مگر ہر کوئی بے اعتمادی کے گھاؤ سے نہیں مرتا۔ ایسے زخم اکثر موت سے بھی بڑھ کر دردناک ہوتے ہیں۔
