google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

اسکینڈے نیوین نیوز اردو

منچن آباد: پولیس افسر پر جنسی زیادتی کا الزام
منچن آباد پولیس الزامات، متاثرہ خاتون کے ساتھ پولیس انسپکٹر کی مبینہ زیادتی

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

منچن آباد میں پولیس انسپکٹر پر سنگین جنسی زیادتی اور دھمکیوں کا الزام

منچن آباد (SNN News) — پنجاب کے شہر منچن آباد میں ایک پولیس انسپکٹر پر خاتون کو نکاح کے جھانسے میں لے کر مبینہ

طور پر جنسی زیادتی کرنے، دھمکیاں دینے اور نازیبا ویڈیو بنانے کا سنگین الزام سامنے آیا ہے۔ واقعے کے بعد ڈی پی او کے نوٹس

پر مقدمہ درج کیا گیا، مگر ملزم کی گرفتاری اب تک عمل میں نہیں آئی۔

متاثرہ خاتون کا بیان اور الزامات

متاثرہ خاتون، جسے فرضی نام “سائلہ” سے پکارا گیا، نے بتایا کہ پولیس انسپکٹر نے تھانہ عباس نگر میں تعیناتی کے دوران اس سے رابطہ بڑھایا اور نکاح کا جھانسہ دے کر اعتماد میں لیا۔

بیان کے مطابق، انسپکٹر اسلم بلوچ، جو اس وقت تھانہ میکلوڈ گنج میں تعینات تھا، نے خاتون کو بلا کر سرکاری کوارٹر میں لے

جاکر مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی۔ مزید الزام ہے کہ اس دوران خاتون کی ننگی ویڈیو بھی بنائی گئی اور اسے جان سے

مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ خاتون نے یہ بھی کہا کہ اس کے اور اس کے خاندان کے خلاف تھانے میں بند کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

مبینہ زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ

متاثرہ خاتون کے مطابق، اس مبینہ زیادتی کے نتیجے میں ایک بچی پیدا ہوئی جس کی عمر تقریباً چار سال ہے۔ خوف اور دباؤ کے

باعث خاتون نے طویل عرصے تک خاموشی اختیار رکھی، تاہم بعد ازاں اعلیٰ حکام سے رجوع کیا۔

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق، ایسے مقدمات میں شواہد، میڈیکل رپورٹس اور بیانات کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اور تاخیر انصاف کے

عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

ڈی پی او کے نوٹس اور گرفتاری کی سست روی

ذرائع کے مطابق، ڈی پی او نے نوٹس لینے کے بعد مقدمہ درج کروایا، لیکن شہری حلقوں اور متاثرہ خاندان کا سوال ہے کہ اگر

ملزم عام شہری ہوتا تو فوری کارروائی ہوتی، مگر پولیس افسر کی گرفتاری میں تاخیر کیوں؟

پولیس اور ادارہ جاتی احتساب پر سوالانسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، جب قانون نافذ کرنے والے خود قانون شکنی میں

ملوث ہوں، تو عوام کا اعتماد شدید متاثر ہوتا ہے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات، فوری گرفتاری، اور عدالتی عمل کی شفاف پیروی

ایسے کیسز میں ناگزیر ہیں۔

سماجی اور قانونی مطالبات

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • ملزم پولیس انسپکٹر کو فوری گرفتار کیا جائے
  • کیس کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں
  • متاثرہ خاتون اور بچی کو تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کی جائے
  • ادارہ جاتی جوابدہی کو یقینی بنایا جائے

ان کا کہنا ہے کہ غیر مؤثر پیروی معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے۔

عوامی توقعات اور تفتیش کا مستقبل

یہ کیس نظامِ انصاف کے لیے امتحان بن چکا ہے کہ کیا طاقتور ملزمان کے خلاف بھی یکساں کارروائی ہوگی یا نہیں۔ شہریوں

کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا پنجاب پولیس شفاف اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بناتی ہے یا نہیں۔

متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا کہ بروقت انصاف نہ ہوا تو وہ اعلیٰ فورمز سے رجوع کریں گے۔ یہ کیس اب صرف ایک ایف آئی آر

نہیں بلکہ خواتین کے تحفظ، پولیس احتساب اور قانون کی بالادستی کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

پولیس افسران کے خلاف دیگر مقدمات اور احتساب پر مزید خبریں پڑھیں