اسامہ زاہد
بیوروچیف
ایشیا ایس این این اردو
تہران، 16 مارچ 2026 – ایران کے سپریم لیڈر، آیت اللہ علی خامنہ ای نے مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو ایران کے حملے جاری رہیں گے۔ ان کے یہ بیانات ایک قومی خطاب کے دوران سامنے آئے، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔
ایرانی عوام کے تحفظ پر زور
خامنہ ای نے کہا کہ دشمن ایران کے عوام کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ عمل ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا:
- میناب اسکول کے شہداء کے خون کا بدلہ لیا جائے گا
- آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہے گی تاکہ دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے
- امریکی فوجی
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے عوام کی یکجہتی اور حکومت کے ساتھ تعاون کے بغیر ان کی ذاتی حیثیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ خامنہ ای نے عوام پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں تاکہ دشمن کو شکست دی جا سکے۔
عوام اور رہنماؤں کے درمیان رابطہ
سپریم لیڈر نے عوام اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان مضبوط رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے اور حمایت ہر فیصلے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، اور یہی ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی بنیاد ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی ایران کے لیے ایک اہم خطرہ تصور کی جاتی ہے۔ خامنہ ای نے کہا کہ اگر امریکی اڈے بند نہیں کیے گئے تو ایران کی فوجی کارروائیاں اور حملے جاری رہیں گے، جس کا مقصد صرف دشمن کی طاقت کو کمزور کرنا اور ایرانی عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
اہم نکات:
- ایرانی عوام کو متحد رہنے کی ضرورت
- دشمن کی ہر ممکن کوشش کا مقابلہ
- میناب اسکول کے شہداء کے خون کا بدلہ
- آبنائے ہرمز کی بندش برقرار
- امریکی فوجی
خطے میں کشیدگی کا حالیہ سلسلہ ایران اور امریکہ کے درمیان سیاسی اور فوجی محاذ پر جاری تنازعات کی وجہ سے ہے۔ امریکی اڈوں کی موجودگی کو ایران اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کشیدگی مشرق وسطیٰ کے تیل اور سمندری راستوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
عالمی اثرات اور ردعمل
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی یہ دھمکیاں عملی صورت اختیار کر لیں تو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز، جو دنیا کے اہم تجارتی راستوں میں شامل ہے، کی بندش عالمی مارکیٹ پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
عالمی برادری کی نظر اس بات پر ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایران کے اس اعلان پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ پالیسی داخلی سیاست میں بھی مضبوط موقف قائم کرنے کے لیے ہے، تاکہ عوام کی حمایت کے ساتھ حکومت کے موقف کو مستحکم کیا جا سکے۔
ایرانی عوام کے لیے پیغام
خامنہ ای نے عوام سے کہا کہ وہ متحد رہیں اور ہر ممکن حد تک اپنی یکجہتی اور حمایت کے ذریعے دشمن کو ناکام بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے بغیر ان کی کوئی حیثیت نہیں، اور عوامی تعاون ہی ملک کی سلامتی اور مستقبل کی ضمانت ہے۔
انہوں نے کہا:
“عوامی یکجہتی کے ساتھ ہم دشمن کو شکست دیں گے اور اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لیں گے۔ ایرانی رہنماؤں اور عوام کے درمیان رابطہ ہمیشہ قائم رہے گا تاکہ کوئی بھی داخلی یا خارجی خطرہ کامیاب نہ ہو سکے۔”
نتیجہ
سپریم لیڈر کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ ایران کسی بھی خارجی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔ عوام کی حمایت اور یکجہتی ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کی بنیاد ہے، اور یہی ایران کے مستقبل کے سیاسی اور فوجی اقدامات کی کلید بھی ہے۔