google-site-verification=vPS2IORVuoXha46ezQlq9GgWZb3jwcr4FAdt74WgP-w

اسکینڈے نیوین نیوز اردو

لاہور ہائیکورٹ: درخت کاٹنے والوں کی ضمانت نہیں
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد کریم سماعت کے دوران درخت کاٹنے والے ملزمان کی ضمانتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

لاہور ہائیکورٹ: درخت کاٹنے والوں کی ضمانت نہیں ہونی چاہیے

لاہور (SNN News) — لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد

کریم نے کہا کہ درخت کاٹنے والے ملزمان کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ عدالت نے درختوں کی پالیسی سے متعلق رپورٹ آئندہ

سماعت پر طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو پیش ہونے کا حکم دیا۔

سماعت کی تفصیلات

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر درخواست گزاروں کی سماعت کی۔ ممبر جوڈیشل واٹر

کمیشن سید کمال حیدر نے بتایا کہ درختوں کی کٹائی کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کمیشن کی مشاورت کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے جمع کرائے گئے جواب پر کہا کہ واضح احکامات کے باوجود بڑے درخت کاٹے جا رہے ہیں،

اور ملزمان کی ضمانتیں روکنے کے اقدامات ضروری ہیں۔ جسٹس شاہد کریم نے پنجاب یونیورسٹی کے لیے میاواکی طرز پر جنگل لگانے کا بھی مشورہ دیا۔

پی ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درختوں کی کٹائی پر سزا نہ ہونے کے برابر ہے، اور لوگ اگلے دن پولیس سے چھوٹ جاتے

ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ جب تک ضمانتیں جاری رہیں گی، درختوں کی کٹائی نہیں رکے گی۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل

پنجاب کو ہدایت دی کہ قانون میں ترمیم کرکے درخت کاٹنے کی ناقابل ضمانت دفعات شامل کی جائیں۔

عدالت کا مؤقف

عدالت نے واضح کیا کہ یہ کارروائی پی ایچ اے کے خلاف نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے فائدے کے لیے کی جا رہی ہے۔ عدالت نے

16 فروری کو عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی۔

ماحولیاتی تحفظ اور درختوں کی کٹائی پر عدالت کے دیگر فیصلے پڑھیں