حماد کاہلوں
ایس این این نیوز
فن لینڈ کی تنظیم کی فوری اپیل
فن لینڈ کی انسانی حقوق کی تنظیم “فن رائٹس” نے اسرائیلی حراست میں موجود 16 فلسطینی طبی ماہرین کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا بیان 20 جولائی 2026 کو ہیلسنکی اور جنیوا سے جاری کیا گیا، جس میں تشدد، تنہائی اور طبی نظرانداز کیے جانے کے دعوے شامل ہیں۔
فن رائٹس نے اپنے دعووں کی بنیاد فلسطینی سینٹر فار پرزنرز ایڈووکیسی کی رپورٹس پر رکھی ہے، جس کے مطابق یہ ڈاکٹر غزہ جنگ کے دوران مریضوں کے علاج پر ڈٹے رہنے کی “سزا” بھگت رہے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ سلوک چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، جو تنازعات کے دوران طبی عملے کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی تصدیق
فن رائٹس کے خدشات دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے بیانات سے بھی ملتے جلتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل کے ایک وکیل نے 2 جولائی کو راکیویٹ حراستی مرکز کے دورے کے بعد ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے جسم پر تازہ زخموں اور تشدد کے نشانات دیکھنے کا دعویٰ کیا۔
اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق کمیشن آف انکوائری نے بھی ڈاکٹر ابو صفیہ کی فوری رہائی اور آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے اسرائیل سے کہا ہے کہ انہیں رہا کیا جائے یا منصفانہ ٹرائل کے تحت باضابطہ الزامات عائد کیے جائیں۔
حراست کی قانونی بنیاد
ڈاکٹر ابو صفیہ، جو کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ہیں، دسمبر 2024 سے اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد زیرِ حراست ہیں۔ انہیں اسرائیل کے “غیر قانونی جنگجو قانون” کے تحت رکھا گیا ہے، جو خفیہ شواہد کی بنیاد پر بغیر باضابطہ فردِ جرم کے حراستی احکامات کی تجدید کی اجازت دیتا ہے۔
16 جون 2026 کو اسرائیل کی سپریم کورٹ نے ان کی رہائی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے حراست میں کم از کم اکتوبر 2026 تک توسیع کر دی۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے فن رائٹس، ایمنسٹی انٹرنیشنل یا اقوام متحدہ کے تشدد کے الزامات پر تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسرا کیس: ڈاکٹر مروان الحمص
فن رائٹس نے ڈاکٹر مروان الحمص، جو غزہ کے فیلڈ ہسپتالوں کے سابق ڈائریکٹر ہیں، پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں ادویات اور اہلِ خانہ سے رابطے سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس سے ان کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ اس کیس کی آزادانہ تصدیق رپورٹ کی اشاعت تک دستیاب نہیں تھی۔
حراستی مقامات چھپائے جانے کا الزام
فن رائٹس کا الزام ہے کہ اسرائیلی حکام جان بوجھ کر کئی زیرِ حراست ڈاکٹروں کے ٹھکانے کو خفیہ رکھے ہوئے ہیں، جسے تنظیم “جبری گمشدگی” قرار دیتی ہے۔ الگ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر ابو صفیہ کو مختلف اوقات میں سدے تیمان اور عوفر جیل میں رکھا گیا، جبکہ ان کے وکلاء کو محدود معلومات فراہم کی گئیں۔
زیرِ حراست 16 ڈاکٹروں کی مکمل فہرست
فن رائٹس کے مطابق زیرِ حراست 16 معالجین یہ ہیں: ڈاکٹر احمد شحادہ، ڈاکٹر محمود الحلاق، ڈاکٹر رائد مہدی، ڈاکٹر مراد القوقا، ڈاکٹر حمزہ ابو صبحہ، ڈاکٹر احمد موسیٰ، ڈاکٹر ناہد ابو طعیمہ، ڈاکٹر غسان ابو زہری، ڈاکٹر مصعب سمعان، ڈاکٹر حسن المقید، ڈاکٹر محمد عبید، ڈاکٹر اکرم ابو عودہ، ڈاکٹر مروان الحمص، ڈاکٹر عمر عمار، ڈاکٹر حسام ابو صفیہ، اور ڈاکٹر مدحت ابو طبنجہ۔
بین الاقوامی دباؤ کا مطالبہ
فن رائٹس نے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس، اقوام متحدہ اور جنیوا کنونشن کے فریق ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ آزادانہ طبی معائنے، خاندانی ملاقاتوں کی اجازت، اور یا تو باضابطہ الزامات کے تحت ٹرائل یا رہائی یقینی بنائی جا سکے۔
تنظیم کا تعارف اپنے بارے میں کچھ یوں ہے: فن لینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک غیر سرکاری ادارہ، جس کا مقصد دنیا بھر میں بنیادی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ ہے۔ رابطے کے لیے ادارے کا پریس آفس ای میل Info@finnright.com پر دستیاب ہے۔
اسرائیل کا غیر قانونی جنگجو قانون کیا ہے