عظمیٰ بخاری اور ریاست مخالف ٹویٹ کے مقدمے میں عدالت نے فلک
جاوید خان کی ضمانت منظور کرلی ہے۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ این سی سی آئی اے نے
ٹویٹس کے اسکرین شاٹس ریکارڈ کا حصہ بنائے، تاہم ان اسکرین
شاٹس سے ریاستی اداروں کے خلاف کسی افراتفری یا انارکی کے شواہد نہیں ملتے۔
عدالت نے کہا کہ مقدمے کے موجودہ ریکارڈ میں ایسا کوئی مواد
موجود نہیں جس سے بغاوت یا اشتعال انگیزی ثابت ہو۔ لہٰذا عدالت
نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض فلک جاوید خان کی ضمانت
منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم صادر کیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ سوشل میڈیا آزادی اظہار اور
ریاستی اداروں کے تحفظ کے درمیان توازن کا نیا قانونی حوالہ ثابت ہوسکتا ہے۔