حماد
SNN News Finland
شفیع جان نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کو خفیہ طور پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ وفاقی وزیر عطا تارڑ کے
اعتراف نے وفاقی حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سنگین خدشات کے باوجود ان کے ذاتی معالج تک رسائی روکی جا رہی ہے، جو
کہ کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا گیا مگر اہلِ خانہ اور وکلاء کو جان بوجھ کر لاعلم
رکھا گیا، جو مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
شفیع جان نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے فوری طور پر عمران خان کے ذاتی معالج کو رسائی نہ دی تو سخت لائحہ عمل
اختیار کیا جائے گا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے آئین، قانون اور عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے سابق وزیر اعظم اور مقبول قومی رہنما کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک سیاسی انتقام اور بے حسی
کی بدترین مثال ہے پمز ہسپتال میں بانی چیئرمین عمران خان کے طبی معائنے پر عطا تارڑ کا بیان وفاقی حکومت کی کارکردگی
پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
شفیع جان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آج بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جائیں گے اور دیگر رہنما
بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو فوری طور پر عمران خان تک رسائی دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات پر غیر قانونی پابندی عائد ہے اور پنجاب حکومت عدالتی احکامات کو مسلسل نظر
انداز کر رہی ہے۔ ملاقات پر پابندی آئین، جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ جعلی مقدمات کے باوجود کرپٹ ٹولہ عمران خان کی عوامی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ عمران خان
کی سیاست کا محور عوام کی ترقی، جمہوریت کا استحکام اور معاشی مضبوطی ہے، جبکہ موجودہ وفاقی حکومت کی توجہ
عوام کو ریلیف دینے کے بجائے سیاسی انتقام پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں شعبہ صحت تباہی کے دہانے پر ہے اور وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کی رپورٹ پنجاب حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔
پاکستان کی تازہ سیاسی صورتحال اور عمران خان سے متعلق مزید خبریں SNN News Finland پر پڑھیں۔
