اسکینڈے نیوین نیوز اردو

عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ میں دہشت گردی پر تنقید کی
عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ میں دہشت گردی پر تنقید کی

حماد کہلوں

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!


اسکینڈینیوین نیوز

ایجنسی، فن لینڈ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک متحرک تقریر کی، جس میں انہوں نے عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف یکطرفہ اقدامات پر خبردار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں ایک بھی غیر مسلم نام شامل نہ ہونا انصاف اور مؤثر کارروائی پر سوالیہ نشان ہے۔

سفیر نے کہا کہ یہ رویہ دنیا کو تقسیم کر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کوششوں کو کمزور بنا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا بھر میں غیر مسلم انتہا پسند بھی دہشت گردی اور شدت پسندی میں ملوث ہیں، مگر عالمی ادارے کی فہرست میں ان کا کوئی نام نہیں، جبکہ مسلمان افراد کو یکطرفہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ دہشت گرد گروہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی سرگرم ہو چکے ہیں اور سوشل میڈیا و جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہئیں تاکہ مثبت اثرات مرتب ہوں۔

انہوں نے پاکستان کو لاحق خطرات کی طرف بھی توجہ دلائی، جن میں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ شامل ہیں، جو افغان سرزمین سے معاونت حاصل کرتے ہیں اور پاکستان کی قومی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ سفیر نے داعش خراسان کے پھیلاؤ کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ یہ گروہ عراق، شام اور افغانستان میں ہزاروں جنگجوؤں کے ساتھ فعال ہے۔

عاصم افتخار احمد نے بھارت پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ نئی دہلی نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے مئی میں ہونے والے ایک بھارتی حملے کی مثال دی جس میں 54 بے گناہ پاکستانی شہری، بشمول خواتین اور بچے، شہید ہوئے۔