اسلام آباد انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے اپنے خصوصی پیغام میں
کہا کہ اس سال کا موضوع خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تشدد کو ختم کرنا ہے، جو آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ تشدد چاہے آن لائن ہو یا روزمرہ زندگی میں، خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی زیادتیاں معاشرے کے لیے
شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ سال پاکستان میں آن لائن ہراسگی کے 3,171 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ
سائبر ہراسگی کے 2,741 واقعات سامنے آئے۔
ان کے مطابق سب سے زیادہ شکایات مئی کے مہینے میں درج ہوئیں جبکہ 36 فیصد کیسز ان علاقوں سے آئے جہاں ایف آئی اے کے
سائبر کرائم دفاتر پہلے سے موجود تھے۔ ایف آئی اے کی موصولہ شکایات میں سے 90 فیصد متاثرین خواتین تھیں۔
انہوں نے عالمی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2024 میں دنیا بھر کی 85 فیصد خواتین نے آن لائن
ہراسگی کا سامنا کیا۔ یہ اعداد صرف نمبرز نہیں بلکہ حقیقی زندگیوں پر اثر ڈالنے والی کہانیاں ہیں جو خواتین کی تعلیم، کام
اور روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
پاکستان میں سال 2024 کے دوران صنفی تشدد کے 32,617 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 5,339 ریپ، 24,439 اغوا، 2,238 گھریلو
تشدد اور 547 غیرت کے نام پر قتل شامل ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ ملک میں 480 جی بی وی کورٹس کے باوجود انصاف کا حصول مشکل ہے کیونکہ سزا کی شرح صرف 5
فیصد ہے جبکہ 64 فیصد ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 70 فیصد کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ متاثرہ خواتین خوف، دھمکیوں اور سماجی دباؤ کے
باعث خاموش رہتی ہیں۔
اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں محفوظ ڈیجیٹل اسپیس، مضبوط قوانین، سنجیدہ اداروں، اور ڈیٹا پروٹیکشن
سسٹم کی شدید ضرورت ہے۔
“حقیقی انصاف تب ممکن ہے جب خواتین خوف کے بغیر اپنی زندگی گزار سکیں اور قانون و حقیقت کے درمیان موجود فاصلے
کو ختم کیا جائے۔”
